30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وفرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یانساء المسلمات لاتحقرن جارۃ لجارتھا ولو فِرسَنَ شاۃٍ اے زنان مسلماناں ہرگز خورد وخوارنہ پندارد ہیچ زن ہمسایہ مرزن ہمسایہ خودرایعنی ہدیہ وتصدق اگرچہ سُمِ گوسپند باشد اخرجہ الشیخان [1]عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ودرحدیث دیگرآمدہ ولو بظلف محرق [2] اگرچہ سمِ سوختہ بود وتخصیص زناں ازبہر آں ست کہ سخط وکفران در طبع ایشاں بیشتر ازمردان ست سبحٰن اﷲ مگر درا بتدائے کارتعلیم نصوح وتربیت روح کمتر وحقیر ترازسمِ سوختہ گوسپندست کہ اوراوقع ندرند وحقے نہ شمارند۔ چہارم آنکہ ایں حقیر راجعست والعیاذباﷲ تعالٰی بسوئے تحقیر قرآن ومختصرات فقہ کہ ہرکہ اینہا آموخت گویا ہیچ نیاموخت العظمۃ ﷲ اگر کار بالتزام کشیدی خود کفرقطعی بودے حالانکہ نہ ازاں کہ حرام اشدوخبث ابعد باشد نسأل اﷲ العفو والعافیۃ علماء فرمود اند مردے صالح پسرش رامعلمی بمعلومے معین کرد ہمیں کہ فرزند سورہ فاتحہ آموخت پدر چارہزار دینار بشکر فرستاد معلم گفت ہنوز چہ دیدہ اند کہ |
آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:یانساء المسلمات لاتحقرن جارۃ لجارتھا ولو فِرسَنَ شاۃٍ اے مسلمان عورتو! کوئی عورت بھی اپنی پڑوسن کے ہدیے کو حقیر نہ سمجھے اگر چہ بکری کا سُم ہی کیوں نہ ہو(بخاری ومسلم ازابوہریرہ)ایك اور حدیث میں ہے ولو بظلفِ محرق اگرچہ جلاہوا سُم ہی ہو۔ عورتوں کو خاص طور پر اس لئے فرمایا کہ ناپسندیدگی اور نا شکری میں عورتیں مردوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔سبحان اﷲ! شاید اس شخص نے پرخلوص ابتدائی تعلیم اور روح کی پرورش کوجلے ہوئے سم سے بھی حقیر اور کم مرتبہ جانا کہ اسے کچھ اہمیت ہی نہیں دیتا اور نہ ہی اس کاکوئی حق شمار ہوتا ہے۔ ۴چہارم خد اکی پناہ استاذ کی ابتدائی تعلیم کو حقیر جاننا قرآن مجید اور فقہ کی مختصرکتابوں کی بے ادبی کی طرف راجع ہے گویا کہ جس نے انہیں پڑھا اس نے کچھ بھی نہیں پڑھا اگروہ شخص اسے لازم پکڑتا تو معاملہ یقینا کفر کی حد تك پہنچ جاتا اب بھی یہ بات شدید حرام اور بدترین خبیث ہے۔ہم اﷲ تعالٰی سے عفو وعافیت طلب کرتے ہیں۔علماء فرماتے ہیں ایك نیك آدمی نے اپنے لڑکے کو ایك استاد کے سپرد کیا ابھی لڑکے نے سورہ فاتحہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع