30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دوم انکار حقوقش کہ صریح خرق اجماع مسلمین بلکہ کافہ عقلاء ست وھذا غیرالکفران فانہ ترك العمل وھذاجحد الاصل کما لایخفی وتخصیصش بتلمذ ابتدائے سودش ندہد کہ اجماع مطلق است و درحدیث مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آمدہ من لم یشکر القلیل لم یشکرالکثیر [1]ہرکہ اندك راشکر نہ کند بسیار راسپاس نیارد اخرجہ عبداﷲ بن الامام فی الزوائد[2] باسناد لاباس بہ والبیھقی فی السنن عن نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وللحدیث تتمۃ وھو عند البیھقی اتم واوردہ ابن ابن الدنیا فی اصطناع المعروف مختصرا۔ سوم آنکہ ایں تحقیر نکوئے واحسان است کہ تعلیم ابتدائی رابجوئے تسنجید ومصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود لاتحقرن من المعروف شیئا ولو ان تلقی اخاك بوجہ طلیق زنہار ہیچ نکوئے راخوار مپندار اگرچہ ایں قدر کہ برادر خود را برائے کشادہ پیش آئی۔اخرجہ مسلم [3]عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
|
مسلمانوں بلکہ تمام عقل والوں کے اتفاق کے خلاف ہے،یہ بات ناشکری سے جدا ہے کیونکہ ناشکری تویہ ہے کہ احسان کے بدلے کوئی نیکی نہ کی جائے اور انکار یہ ہے کہ سرے سے احسان ہی کو نہ ماناجائے اور یہ کہنا کہ استاذ نے تو مجھے صرف ابتداء میں پڑھایا تھا اس شخص کے لئے کچھ مفید نہیں کیونکہ اس بات پراتفاق ہے اور حدیث شریف"من لم یشکر القلیل لم یشکرالکثیر"جس نے تھوڑے احسان کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے زیادہ کابھی شکرنہیں کیا۔اس حدیث کو عبداﷲ بن امام نے زوائد میں باسناد(اس میں ہرج نہیں) روایت کیا۔اور امام بیہقی نے سنن میں نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور اس حدیث کا تتمہ ہے کہ امام بیہقی کے نزدیك اتم ہے اس کو ابن ابی الدنیا نے اصطناع المعروف میں مختصر طوپر ذکرکیاہے۔ ۳سوم اس شخص نے نیکی کو حقیرجانا اور ابتدائی تعلیم کے احسان کی کچھ قدر نہ کی۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: لاتحقرن من المعروف شیئا ولو ان تلقٰی اخاك بوجہ طلیق ہرگز کوئی شخص نیکی کو معمولی نہ سمجھے گو کہ اتنی ہو کہ تو اپنے بھائی کومسکراکر ملے۔اسے مسلم نے ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع