30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وآدابہ لایضن بشیئ من مالہ[1]۔ |
لحاظ رکھے اپنے مال میں کسی چیزسے اس کے ساتھ بخل نہ کرے یعنی جوکچھ اسے درکار ہو بخوشی خاطر حاضرکرے اور اس کے قبول کرلینے میں اس کا احسان اور اپنی سعادت جانے، |
اسی میں تاتارخانیہ سے ہے:
|
یقدم حق معلمہ علی حق ابویہ وسائر المسلمین و یتوضع لمن علّمہ خیرا ولو حرفا ولاینبغی ان یخذلہ ولایساثر علیہ احد فان فعل ذٰلك فقد فصم عروۃ من عری الاسلام و من اجلالہ ان لایقرع بابہ بل ینتظر خروجہ [2]۱ھ مختصر۔ قال اﷲ تعالٰی: " اِنَّ الَّذِیۡنَ یَغُضُّوۡنَ اَصْوٰتَہُمْ عِنۡدَ رَسُوْلِ اللہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امْتَحَنَ اللہُ قُلُوۡبَہُمْ لِلتَّقْوٰیؕ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۳﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ مِنۡ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوۡنَ ﴿۴﴾"[3]۔ |
یعنی استاد کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے اور جس نے اسے اچھاعلم سکھایا اگرچہ ایك ہی طرف پڑھایا ہو اس کے لئے تواضع کرے اور لائق نہیں کہ کسی وقت اس کی مدد سے باز رہے،اپنے استاد پر کسی کو ترجیح نہ دے،اگر ایسا کرے گا تو اس نے اسلام کی رسیوں سے ایك رسّی کھول دی،استاذ کی تعظیم یہ ہے کہ وہ اندر ہو اور یہ حاضر ہو تو اس کے دروازہ پرہاتھ نہ مارے بلکہ اس کے باہر آنے کا انتظار کرے اھ مختصرًا۔ (اﷲ تعالٰی نے فرمایا)بیشك اے حبیب! جو لوگ حجروں سے باہرکھڑے ہوکر تمہیں بلاتے ہیں ان میں سے اکثر بیوقوف ہیں وہ صبرکرتے حتی کہ تم خود بخود باہرآجاتے تو ان کے لئے بہترتھا اﷲ تعالٰی بخشنے والامہربان ہے۔(ت) |
عالم دین ہرمسلمان کے حق میں عمومًا اور استاد علم دین اپنے شاگر کے حق میں خصوصًا نائب حضور پرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے،ہاں اگر کسی خلاف شرع بات کاحکم دے ہرگز نہ کرے۔
|
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالٰی[4]۔ |
اﷲ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔(ت) |
مگر اس نہ ماننے پربھی گستاخی وبے ادبی سے پیش نہ آئے فان المنکر لایزال بمنکر(کیونکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع