30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
جعل فی حل مطلقا لم یرد خصوص مافی علمہ امامن جعل فی حل من حق معلوم لہ فانما یذھب ذھنہ الی قدر مافی علمہ،واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کہ ایك شخص کے گمان میں حقوق کی ایك مقدار جبکہ وہ در حقیقت زیادہ تھے اور ان دونوں صورتوں میں بہت بڑافرق ہے کیونکہ جو شخص مطلقًا اپنے حقوق معاف کردیتاہے اس کا ارادہ یہ نہیں ہوتاکہ میں صرف وہ حقوق معاف کررہا ہوں جو میرے علم میں ہیں اور جوشخص کسی معین حق کو معاف کرتا ہے تو اس کا ذہن اسی طرف جاتاہے کہ جتنا مجھے علم ہے اسی قدرمعاف کررہاہوں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
نیزمنح الروض میں ہے:
|
ھل یکفیہ ان یقول اغتبتك فاجعلنی فی حل اَم لابد ان یبین مااغتاب؟ ففی منسك ابن العجمی لایعلمہ بھا ان علم ان اعلامہ یثیر فتنۃ،ویدل علیہ ان الابراء عن الحقوق المجھولۃ جائز عندنا لکن سبق انہ ھل یکفیہ حکومۃ ودیانۃ[1]۱ھ مافی منح الروض اقول:و فی جریان الخلاف المذکور ھٰھنا نظر فان الغیبۃ لاتصیر من حقوق العبد مالم تبلغہ واذا بلغتہ لم تکن من الحقوق المجھولۃ وقد قال فی المنح نفسہ یانصہ قال الفقیہ ابواللیث |
کیایہ کافی ہے کہ ایك آدمی دوسرے سے کہے کہ میں نے تمہاری غیبت کی ہے مجھے معاف کردو،یایہ ضروری ہے کہ یہ بھی بتائے کہ میں نے تمہاری یہ غیبت کی ہے۔ابن العجمی کے منسك میں ہے کہ اگریہ سمجھتاہے کہ غیبت کے تفصیلًا بتانے سے فتنہ پیداہوگا تو اس کااظہار نہ کرے،ہمارے نزدیك نامعلوم حقوق کے معاف کرنے کاجواز اس پردلالت کرتاہے لیکن یہ بات گزرچکی ہے کہ آیا فیصلے کے اعتبار سے کافی ہے یا دیانت کے طور پر۱ھ(اعلٰحضرت قدس سرہ،فرماتے ہیں) اقول:(میں کہتاہوں کہ)یہاں گزشتہ اختلاف کے جاری ہونے میں کلام ہے کیونکہ غیبت اس وقت تك بندے کاحق نہیں بنتی جب تك اسے نہ پہنچ جائے،جب پہنچ جائے تونامعلوم حقوق میں سے نہ رہے گی،خود منح الروض میں ہے کہ فقیہ ابو اللیث نے فرمایا: |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع