30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
حقوق فاستحل صاحبھا ولم یفصلھا فجعلہ فی حل یعذرُ اِن علم انہ فصلہ یجعلہ فی حل والا فلا قال بعضھم انہ حسن وان روی انہ یصیر فی حل مطلقا،وفی الخلاصۃ رجل قال الاٰخر حللنی من کل حق ھو لك ففعل فابرأہ ان کان صاحب الحق عالما بہ برئ حکما بالاجماع واما دیانۃ فعند محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لایبرأ عند ابی یوسف یبرأ علیہ الفتوی انتھی،وفیہ انہ خلاف ما اختار ابوالیث ولعل قولہ مبنی علی التقوٰی [1]۱ھ مافی منح الروض۔اقول:وفی مخالفتہ لما اختار الفقیہ نظر فان الکلام ھٰھنا فی البراءۃ من الحقوق المجھولۃ لصاحبھا اصلا وثمہ فیما اذا ظن مقدارا وکان الواقع ازید وبینھما بون بین فان من |
کچھ حق ہوں وہ صاحب حق سے کہے کہ مجھے معاف کردے اور حقوق کی تفصیل نہ کرے صاحب حق اسے معاف کردے، تو اگر یہ معلوم ہو کہ صاحب حق حقوق کی تفصیل کوجان کر بھی معاف کردے گا تو معاف ہوجائیں گے ورنہ نہیں۔بعض علماء نے فرمایا:یہ تفصیل عمدہ ہے۔یہ بھی روایت ہے کہ اسے بہرصورت حقوق معاف ہوجائیں گے۔خلاصہ میں ہے کہ ایك شخص نے دوسرے کوکہا تم مجھے اپنا ہرحق معاف کر دو،اس نے معاف کردیا،اگر صاحب حق کو علم ہے پھر تو معافی مانگنے والا قضاء ً ودیانۃً(یعنی فیصلے کے اعتبار سے بھی اور عنداﷲبھی)بری ہوجائے گا اور اگر اسے علم نہیں تو بالاتفاق یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ بری ہوگیا،رہادیانۃً(عنداﷲ)تو امام محمد کے نزدیك بری نہیں ہوگا امام ابویوسف کے نزدیك بری ہوجائے گا اسی پرفتوٰی ہے انتہٰی،اس میں اعتراض ہے کہ یہ فقیہ ابواللیث کے مختار کے خلاف ہے ہوسکتاہے ان کا قول تقوٰی پرمبنی ہو۔منح الروض کاکلام ختم ہوا۔اقول:(میں کہتاہوں)کہ فقیہ ابواللیث کے مختار کے خلاف ہونے میں کلام ہے کیونکہ خلاصہ میں اس بارے میں گفتگو ہے کہ ایك شخص کو حقوق کابالکل علم نہیں وہ انہیں معاف کردیتاہے اور فقیہ ابواللیث کی کلام اس میں ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع