30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے حضورایک سائل حاضرہوا اسے ٹکڑا عطافرمایا ایک ذی عزت مسافر گھوڑے پرسوارحاضر ہوا اس کی نسبت فرمایا کہ باعزاز اتارکر کھاناکھلایاجائے،سائل کی حاجت اسی قدر تھی اور کسی رئیس کو ٹکڑا دیاجائے توباعث اس کی سُبکی اور ذلت کاہو لہٰذا فرق مراتب ضرورہے اور اصل مدارنیت پر ہے اگرسائل کوبوجہ اس کے فقر کے ذلیل سمجھے اور غنی کو بوجہ اس کی دنیا کے عزت دارجانے توسخت بیجاسخت شنیع ہے اور اگرہرایک کے ساتھ خلق حسن منظورہے توجتنا جس کے حال کے مناسب ہے اس پرعمل ضرور ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۵۳ و ۱۵۴: ازبلرام پورضلع گونڈہ محلہ پورینیا تالاب مرسلہ حافظ محمد عین اﷲ صاحب ۱۴ رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)ایک شخص عالم ہے اور اس کو اہل اسلام اور برادری پیشوا جانتے ہیں اور وہ عیال دار ہے اگر برادری میں شادی نکاح میں نیوتا مروّجہ لے لے اور کھانا بھی کھائے اور اُن کو بطریق نیوتاکچھ نقد دے اور اپنے یہاں کسی لڑکے کی شادی کرے اور برادری کونیوتا دے کرمدعو کرے تو وہ برادری میں منسلک ہوجائے گا اور علم کے درجہ سے گرجائے گا اور پیشوا نہ رہے گا اور برادری کے ہرمعاملہ جائزوناجائز میں شریک ہونا اور تسلیم کرنا اس پرواجب ہوگا۔
(۲)ایک شخص قناعت گزیں ہے اور بجز فتوح غیب کوئی وجہ معاش نہیں رکھتا اور قوم اس کو پیشوا جانتی ہے اور مدخیرات سے اس کو دیتی ہے اور عیال دار ہے اگر وہ بلااکراہ واجبار مثل مذکورہ رسم نیوتاجاری رکھے تو درجہ توکل سے گرجائے گا اور خیرات وغیرہ سے لینا ناجائزہوگا اور شرکت برادری ہرخیروشر میں اس پر واجب ہوگی۔
الجواب:
(۱)جوعالم دین اور پیشوائے مسلمین ہو اسے برادری سے میل جول اور ان کی جائز تقریبوں میں شرکت اور جائز رسموں میں موافقت اور اپنی تقریبوں میں انہیں شریک کرناہرگز نہ ممنوع ہے نہ اس کو درجہ سے کچھ کم کردے وہ کہ تمام عالم سے افضل و اعلٰی ہیں۔صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اپنے غلاموں سے ایسے برتاؤ رکھتے۔ہاں ناجائز تقریبوں میں شریک ہونا،ناجائز رسموں میں ساتھ دینا یہ ضرورناجائز اور عالم وپیشوا کے لئے سخت ترناجائز،یہ ضرور درجہ گرادینے والی چیزہے اور یہ محض غلط ہے کہ برادری سے میل جول ناجائزباتوں میں شرکت پربھی مجبورکرے گا کیوں مجبور کرے گا جب یہ عالم ہے اور وہ اسے پیشوا مانتے ہیں صاف کہہ دے کہ فلاں بات ناجائز ہے میں اسے نہیں کرسکتا اور تم بھی نہ کرو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع