30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے نزدیک بری الذمہ نہ ہوگا لیکن قاضی امام ابویوسف رحمۃ اﷲ علیہ کے نزدیک بری الذمہ ہوجائے گا،اور اسی پرفتوٰی ہے اھ۔اور اس میں یہ اشکال ہے کہ یہ صورت اس کے مخالف ہے جو فقیہ ابواللیث سمرقندی نے اختیارکیا،شاید فقیہ موصوف کاقول تقوٰی پرمبنٰی ہو۔(ت)
بالجملہ امرمشکل جوسچے دل سے مولٰی عزوجل کی طرف رجوع لاتاہے اس کاکرم ضرور اسے قبول فرماتاہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱ و ۱۵۲: ازفیض آباد مسجد مغلپورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
(۱)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کسی سائل کو یا کسی نالشی کوجو ان کے پاس حاضر ہوامعافی مانگی توبہ کی توحضور سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کس طرح پیش آئے؟
(۲)کیارسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے جو مسافر ومہمان معزز رئیس دنیا جس سے آمدنی ہوساتھ کھانا کھلایا اور غریبوں پرتوجہ نہیں کی،شریعت میں جائزہے؟
الجواب:
(۱)حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی کسی سائل کوجس کاسوال ناحق نہ تھا زجر نہ فرمایا،نالشیوں کی ہمیشہ بات سنی،اور اگر حق پرتھا توداد رسی وفریادرسی فرمائی،جس نے توبہ کی توبہ قبول فرمائی،جس نے معافی مانگی اسے معافی دی اگرچہ بعض مصلحت دینیہ سے بدیر مگرحدوداﷲ میں کہ بعد وجوب حد اس سے درگزرکاحکم نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
(۲)رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غریب نوازی ہی کو تشریف لائے ہیں،شبانہ روز سرکار سے غریبوں امیروں سب کی پرورش جاری ہے مگریہ بھی حکم فرمایاہے:
|
انزلوا الناس منازلھم[1]۔ |
لوگوں کو ان کے مراتب ودرجات کے مطابق اتارو(یعنی ان کے مقام کے مطابق ان کی عزت افزائی اور مہمان نوازی کرو)۔(ت) |
اور حدیث میں ہے:
|
اذا اتاکم کریم قوم فاکرموہ[2]۔ |
جب کسی قوم کامعزز تمہارے یہاں آئے تو اس کی عزت کرو۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع