30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وھو لایعلم بجمیع ذٰلک فقال لہ المدیون ابرأنی ممالک علیّ فقال الدائن ابرأتک قال نصیر،لایبرأ الاعن مقدار مایتوھم ای یظن انہ علیہ وقال محمد بن سلمۃ یبرأ عن الکل قال الفقیہ ابواللیث حکم القضاء ماقالہ محمد بن سلمۃ وحکم الاٰخرۃ ماقالہ نصیر وفی القنیۃ من علیہ حقوق فاستحل صاحبہا ولم یفصلھا فجعلہ فی حل بعذران علم انہ لوفصلہ یجعلہ فی حل والا فلا قال بعضھم انہ حسن وان روی انہ یصیر فی حل مطلقا،وفی الخلاصۃ رجل قال الآخر حللنی من کل حق ھو لک فأبرأہ ان کان صاحب الحق عالما بہ برئ حکماً بالاجماع واما دیانۃ فعند محمد لایبرأ وعند ابی یوسف یبرأ وعلیہ الفتوی اھ و فیہ انہ خلاف ما اختارہ ابواللیث و لعل قولہ مبنی علی التقوٰی[1]۔ |
وہ اس کی پوری تفصیل نہ جانتاہوتومقروض نے قرضخواہ سے کہا جو کچھ بھی تیرامیرے ذمے ہے اس سے میری برأت کر دے،اس پر قرض خواہ نے کہا میں نے تیری براءت کر دی۔ امام نصیر نے فرمایا اس کی صرف اتنی ہی مقدار سے برأت ہوجائے گی کہ جتنی مقدار کافرقرضخواہ کو وہم ہوا ہوکہ اس قدرقرض مقروض پرہے لیکن محمد بن سلمہ نے فرمایا کہ سب سے اس کی برأت ہوجائے گی۔فقیہ ابواللیث نے فرمایا قضاء میں تووہی حکم ہے جوکچھ محمد بن سلمہ نے فرمایالیکن آخرت کاحکم وہ ہے جو کچھ امام نصیر نے فرمایا۔اور قنیہ میں ہے اگرکسی پرحقوق ہوں اور اس نے صاحب حقوق سے معاف کردینے کی درخواست کی لیکن اُن کی(اس کے آگے) کچھ تفصیل نہ بیان کیا،اور صاحب حقوق نے انہیں معاف کردیا اس عذر سے کہ وہ جانتاہے کہ اگر ان کی اس کے سامنے تفصیل پیش کی جاتی تو وہ لامحالہ معاف کردیتا تو اس صورت میں وہ معاف ہوجائیں گے ورنہ بصورت دیگر وہ معاف نہ ہوں گے۔ بعض نے فرمایا کہ یہ اچھی تفصیل ہے۔اگرچہ یہ بھی مروی ہے کہ وہ حقوق مطلقًا معاف ہوجائیں گے۔خلاصہ میں ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص سے کہا کہ تیرا جوبھی میرے ذمّے حق ہے وہ مجھے معاف کردے یعنی میرے لئے حلال کر دے،تو اس نے برأت کردی،اگرصاحب حق اُن تمام حقوق کا علم رکھتا ہے توپھر معاف کرانے والا حکماً بالاتفاق بری ہو جائے گا۔رہامعاملہ دیانت تو اس میں امام محمد علیہ الرحمۃ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع