30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وغیرھا کما فی جامع الرموز وعلیہ مشت المتون المعتمدۃ النقایۃ والاصلاح والغرر۔ |
ذخیرہ وغیرہ میں ہے جیسا کہ جامع الرموز میں ہے تمام متون معتبرہ کی یہی روش ہے مثلاً النقایہ،الاصلاح اور الغرر وغیرہ(ت) |
۵پانچویں مال مثلاً رنڈی نے کسی سے قرض لیا یا اسے گانے ناچنے زناوغیرہ محرمات کی اجرت اور آشنائی کی رشوت سے جدا کسی نے ویسے ہی کچھ انعام دیاہبہ کیا یاسینے پرونے وغیرہا افعال جائزہ کی اُجرت میں لیا کہ یہ سب حلال ہے او اس سے جوکچھ حاصل کیاجائے گا وہ بھی حلال ہے،
|
فی فتاوی الامام قاضی خان الرجل اذا کان معربا مغنینان ان اعطی بغیر شرط قالوا یباح وان کان یاخذہ علٰی شرط ذو المال علٰی صاحبہ ان کان یعرفہ و ان لم یعرفہ یتصدق بہ[1] اھ وتفصیل القول فی الحظرمن فتاوٰنا۔ |
فتاوٰی قاضی خان میں ہے کہ اگرکوئی آدمی کسی مرد گویّا کو بغیرشرط کے کچھ دے دے یاگویّا اس شرط پرلے لے کہ بصورت تعارف اور پہچان کے وہ مال وصول کردہ اصل مالک کوواپس کردے گا اورمالک کاپتا نہ لگ سکنے کی صورت میں وہ مال صدقہ کردے گا اھ او ر اس قول کی تفصیل ہمارے فتاوٰی کی بحث حظرمیں موجودہے(ت) |
پس اگرمعلوم ہو کہ یہ تحفہ جووہ لائی ہے اگلے تین مالوں سے ہے تو طبیب وغیرطبیب کسی کولیناجائزنہیں اور اگرمعلوم ہوکہ قسم پنجم سے ہے تو سب کولینا حلال اور قسم چہارم میں لے لے توگنہگارنہیں،یہ سب اس حال میں ہے کہ تحفہ کاحاصل اس لینے والے کو معلوم ہو کہ کس قسم کاہے اور بحال عدم علم جب کہ اس کااکثر مال وجہ حرام سے ہوکہ رنڈیوں میں غالب یہی ہے توبہت علماء اس کاتحفہ لینا مطلقًا حرام بتاتے ہیں جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ خاص چیزوجہ حلال سے ہے مگراصل مذہب وقول صحیح ومعتمد یہ ہے کہ بحال ناواقفی لیناجائزہے جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ خاص چیزوجہ حرام سے ہے،محررمذہب سیدناامام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں:
|
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ |
جب تک ہم کسی چیز کوبعینہٖ حرام نہ جانیں تو وہ جائزہے،ہم اسی کواختیار کرتے ہیں،اور یہی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع