30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی مطلقًا حرام ہے فان الحرام اذاکان البدل ایضا(کیونکہ جب حرام کابدل ہو تووہ بدل بھی حرام ہے۔ت)
۳تیسرے وہ چیز جوانہوں نے اسی نقد حرام کے بدلے یوں حاصل کی کہ اس کے نقد پرعقد واقع ہوا اور وہی اداکیا مثلاً جوروپیہ رنڈی کورشوت یا اجرت میں ملا یارشوت واجرت میں ملے ہوئے مثلاً تھانوں کو بیچ کرحاصل کیا اس نے بائع کو وہی روپیہ دکھاکر کہا کہ اس کے عوض شیرینی یاگیہوں یاگوشت یافلاں شیئ کی تخم یادرخت کی قلم دے دے یاروپیہ ا س کے سامنے ڈال دیا کہ فلاں فلاں چیز دے اس نے دیں اس نے وہی زرِ حرام ثمن دے دیا اس صورت میں بھی جو کچھ حاصل کیا مذہب صحیح پرسب حرام وغصب ہے،
|
وقول من قال بحلہ لعدم تعلق العقد بینہ بل مثلہ لعدم تعینہ وان کان قیاسا لکنہ خلاف الاستحسان کما افادہ فی الفتح۔ |
اور جس نے اس کے حال ہونے کی بات کی اس لئے کہ عین شئی کے ساتھ عقد متعلق نہیں بلکہ مثل غیرمتعین کے ساتھ متعلق ہے اگرچہ قیاس کا تقاضایہی ہے لیکن خلاف استحسان ہونے کی وجہ سے حرام ہے جیسا کہ فتح القدیر میں(محقق ابن ہمام نے)اس کاافادہ دیا(ت) |
۴چوتھی وہ چیز کہ نقد حرام سے خریدی مگر عقد وادا دونوں مال حرام پرجمع نہ ہوئے مثلاً زرِ حرام کہ خود اُجرت ورشوت میں ملایا ایسی جنس جوپائی تھی اسے بیچ کر حاصل کیا وہ روپیہ دکھاکر اس کے عوض دے دے جب اس نے دی ثمن میں حلال روپیہ دیاوہ حرام روپیہ الگ کرلیا یہاں عقد حرام پرہوا مگرادا اس سے ادانہ ہوئی یابغیرروپیہ دکھائے یا اس کی طرف اشارہ کئے یوہیں کہا کہ ایک روپیہ کی فلاں شَے دے اس نے دی اب ثمن میں زرحرام دیا کہ یہاں ادا تو اس سے ہوئی مگرعقد اس پرواقع نہ ہوا تھا اس صورت میں علماء مختلف ہیں بہت سے علماء اسے بھی حرام مطلق بتاتے ہیں،
|
فان الفساد اذاکان لعدم الملک عمل فیما یتعین وما لایتعین اصلا وبدلا علی الاطلاق۔ |
کیونکہ فساد جب عدم ملکیت کی وجہ سے ہوتو پھر متعین، غیر متعین۔اصل اوربدل سب میں علی الاطلاق کرتاہے (ت) |
اور بہت سے علماء نے امام کرخی رحمہ اﷲ تعالٰی کے قول پرفتوٰی کیا کہ یوں جوچیز مول لے وہ حرام نہیں،نقد حرام کی خباثت اس کے بدل میں جبھی آتی ہے کہ عقد وادا دونوں اس پر مجتمع ہوں۔تنویرالابصار میں ہے:
|
بہ یفتی ومثلہ فی الذخیرۃ |
اسی قول کے مطابق فتوٰی دیاگیا اور اسی کی مثل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع