30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
خلاف شرع مقدمہ فیصل کرناحرام ہے،قرآن عظیم میں اس کے لئے تین لفظ ارشاد ہوئے:فٰسقون،ظٰلمون،کٰفرون۔ اور معاذاﷲ شکست اسلام پراگر دل سے خوشی ہو کفرورنہ فسق،سوددینا اگرسچی ضرورت ومجبوری وناچاری سے ہے حرج نہیں ورنہ وہ بھی فسق ہے۔صحیح مسلم شریف میں ہے:
|
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء [1]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سوددینے والے اور اس کاکاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر،اور فرمایا وہ سب برابرہیں۔ |
ایساشخص امام وقاضی بنانے کے لائق نہیں اگرچہ یہاں قاضی شہر نکاح خواں کوکہتے ہیں کہ اس میں اس کی تعظیم ہے،اور فاسق کی تعظیم منع۔تبیین الحقائق میں ہے:
|
لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعًا[2]۔ |
اس لئے کہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں لوگوں پر اس کی توہین واجب ہے(ت) |
رہابارہ برس سے مجرد ہونایہ کوئی ایسی وجہ نہیں جس پرجزمًا مواخذہ کیاجائے۔ترك موالات ہرکافر سے مطلقًا فرض ہے اور آج سے نہیں ہمیشہ سے فرض ہے یہودونصارٰی ومجوس کی طرح بلکہ ان سے بھی زائد ہنود سے بھی اتحادوموافقت حرام قطعی ہے اور مجرد معاملت جائزہ کسی کافراصلی سے اصلًا منع نہیں،اس کی تفصیل ہماری کتاب المحجۃ المؤتمنۃ عــــــہ میں ہے۔حکم شرعی کو الٹ دینا اور اسے حکم شرعی ٹھہرانا دوہراجرم اور سخت ابتداع فی الدین ہے " وَاللہُ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرٰطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ﴿۲۱۳﴾ "[3] (اور اﷲ تعالٰی جس کو چاہے سیدھا راستہ دکھاتاہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۳۷: ازیونادرعلاقہ پران ملك مالوہ مسئولہ قاسم علی ۱۸ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قاضی تارك نمازپنجگانہ رنڈیوں کواپنے گھرنچوائیں
عــــــہ: کتاب الحجۃ المؤتمنہ فتاوٰی رضویہ مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاہور جلد ۱۴صفحہ ۴۱۹ پرمرقوم ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع