30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چونکہ اب عادت عام ہے لہٰذا لکھ وہ بھی دیتے ہیں کہ یہ سب عرضی دعوٰی وغیرہ ہم کو تسلیم ہے یا اور جیسے پیروکارکہتاہے ویسے بھی لکھ دیتے ہیں اب ان میں سے ہرہرکاکیاحکم ہے اگرفریق آخر الذکر لفظ سب بلکہ تاکیدًا لفظ لفظ بھی تسلیم ہونالکھ دیں مگریہ نیت کرے کہ نفس بیان دعوٰی جو اس عرضی دعوی میں ہے وہ تسلیم ہے،نہ اس کے الفاظ قبیحہ نفس مطلب پر زائد تو کیاحکم ہے؟
(۳)بعض کاغذات ایسے ہوتے ہیں جن میں حکومت کی جانب سے یہ الفاظ لکھے ہوتے ہیں اور ان کی تصدیق وتسلیم منجانب حکومت چاہی جاتی ہے یافریقین کو اپنے اپنے کاموں میں ان کوجاری کرانے کی ضرورت پڑتی ہے جیسے سمن وغیرہ یاحاکم خود ایسا جملہ کہلواتاہے جس میں یہ الفاظ آتے ہیں ایسی حالت میں ان تصدیق کرنے والوں سمن اجرا کرنے والوں او ر ان الفاظ کہنے والوں کاکیاحکم ہے اور انہیں کیا زیباہے؟
(۴)پیروکار قانونی اپنی بحثوں میں حسب عادت خودبلااجازت صریح مؤکلان ایسے الفاظ استعال کرتے ہیں اور وہ بحث ہرپیروکار کے اپنے کے اپنے مؤکل کے حق میں حاکم کے یہاں مسلمہ مؤکل ہوتی ہے اور اگرمؤکل موجود ہوں تو اس پرساکت ہی رہتے ہیں تو اگر وہ دل سے ان الفاظ مخصوصہ کو نہ تسلیم کریں یا ان سے غافل رہیں لحاظ ہی نہ کریں اور اصل مطلب کی بحث کومانیں توپیروکار کے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے ان پر ان کے سکوت کی وجہ سے کوئی قباحت آتی ہے اگرہاں توپیروکار کہنے والے کے برابر یا کم زائد؟
(۵)انگریزی جوکچہری بنام منصفی ہےعام طور پر اس کو منصفی اور اس کے حاکم کو منصف کہتے ہیں اور اس سے مراد وہی مخصوص کچہری اور اس کاحاکم ہوتاہے انصاف کے اصل معنی سے نیت کاذہن یہ کہتے وقت خالی ہوتاہے اس صورت میں یہ اطلاق کیساہے؟
(۶)اگر لفظ عدالت سے صرف کچہری حکومت مراد لیاجائے اور عادل منصف سے صرف حاکم تو ان الفاظ کااطلاق کفار فجّار پرصحیح ہوگا یانہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
سلطنت اگرچہ اسلامیہ ہو اور حاکم مسلم بلکہ خود سلطان اسلام اور حکم خلاف ماانزل اﷲ کرے اسے عادل کہنے کو ائمہ نے کفر بتایا۔ہندیہ میں امام علم الہدٰی ابومنصور ماتریدی قدس سرہ،سے ہے:
|
من قال لسلطان زماننا |
جس نے اپنے زمانے کو سلطان کوعادل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع