30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
غیبت حرام ہے مگرمواضع استثناء میں،مثلًا فاسق کی غیبت اس کے فسق میں جائزہے، حدیث میں فرمایا:لاغیبۃ لفاسق[1] (اگرفاسق کی غیبت کی جائے تو وہ غیبت نہیں۔ت) او ربدمذہب کی برائیاں بیان کرنا بہت ضرورہے حدیث میں ہے:
|
اترعوون عن ذکرالفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بمافیہ یحذرہ الناس[2] |
کیاتم بدکار کاذکرکرنے سے گھبراتے ہو تو پھرکب لوگ اسے پہچانیں گے،لہٰذابدکار میں جوکچھ نقائص اور خرابیاں ہیں انہیں بیان کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں۔(ت) |
ہاں جس کی غیبت جائز نہیں وہ سخت کبیرہ،حدیث میں فرمایا:الغیبۃ اشد من الزنا[3] (غیبت زنا کرنے سے بدترہے۔ ت) اسے سمجھانا چاہئے توبہ لیناچاہئے،نہ مانے تو اسے چھوڑدیناچاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
___________________
[1] کشف الخفاء حدیث ۳۰۸۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۳۳۴
[2] تاریخ بغداد ترجمہ ۳۴۹ محمد بن احمد الرواطی دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۳۸۲،نوادرالاصول للترمذی الاصل السادس والستون والمائۃ دارصادر بیروت ص۲۱۳
[3] مشکوٰۃ المصابیح کتاب الادب باب حفظ اللسان والغیبۃالفصل الثالث مجتبائی دہلی ص۴۱۵،شعب الایمان حدیث ۶۷۴۱ و ۶۷۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ /۳۰۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع