30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اگر وہ امرواجب وفرض تھا تو اس وعدہ کاخلاف کرناحرام وناجائزہے اور اگر وہ امرناجائزوحرام تھا جیسے کسی نے شراب پینے کابحلف مستحکم وعدہ بحلف کیا تو اس کاخلاف کرنا فرض وواجب ہے اور اگر وہ مباح امرتھا اور کوئی عذر پیش آیا تو خلاف وعدہ جائزہے اور بلاعذر ناپسندہے ہاں وعدہ کرتے وقت ہی دل میں تھا کہ پورا نہ کرے گا توایسا وعدہ کرنابھی حرام ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیّتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان لایفی۔رواہ ابو یعلٰی[1] فی مسندہ عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
یہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کہ آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کاارادہ یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے،لیکن خلاف ورزی یہ ہے کہ آدمی کسی سے وعدہ کرے اور نیت یہ ہے کہ وہ اسے پورا نہ کرے گا۔اس کو ابویعلٰی نے اپنی مسند میں زیدبن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے بسندحسن اس کو روایت کیا ہے۔اور اﷲ تعالٰی سب کچھ اچھی طرح جانتاہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۲۷:خود جھوٹ بولنا اوردوسرے شخص کو مجبورکرکے جھوٹ بلواناکیساگناہے؟
الجواب:
بلاضرورت شرعی جھوٹ بولنا اوربلوانا کبیرہ گناہ ہے،
|
قال اﷲ تعالٰی " قُتِلَ الْخَرّٰصُوۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾"[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:مارے جائیں وہ لوگ جو اٹکل پچّو سے باتیں بنانے والے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۲۸:مسئولہ محمدقاسم کھوکھر ازدہامونکی تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ پنجاب بروزدوشنبہ بتاریخ ۱۱ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے احناف رحمکم اﷲ تعالٰی اس مسئلہ میں کہ جو مقتدی اپنے امام کی نیك نامی کوگزند پہنچانے کی غرض سے بچشم حقارت عوام الناس میں اس کی توہین وہجوکرے حالانکہ اس کو سابقہ کئی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع