30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واجب وکذالوسألہ عن ودیعۃ یرید اخذھا یجب انکارھا ومھما کان لایتم مقصود حرب اواصلاح ذات البین اواستمالۃ قلب المجنی علیہ الابالکذب فیباخ ولو سألہ سلطان عن فاحشۃ وقعت منہ سرا کزنا اوشرب فلہ ان یقول مافعلتہ لان اظھارھا فاحشۃ اخری ولہ ایضا ان ینکر سراخیہ وینبغی ان یقابل مفسدۃ الکذب المفسدۃ المترتبۃ علی الصدق فان کانت مفسدۃ الصدق اشد فلہ الکذب وان بالعکس اوشك حرم وان تعلق بنفسہ استحب ان لایکذب وان تعلق بغیرہ لم تجزالمسامحۃ بحق غیرہ والحزم ترکہ حیث ابیح [1]۔ |
(اس مظلوم کوبچانے کے لئے)جھوٹ بولنا اور یہ کہنا کہ میں نے اسے نہیں دیکھا یا مجھے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں،واجب ہے۔اس طرح اگرکوئی ظالم کسی کی امانت کے متعلق پوچھے جس کے لینے کا وہ ارادہ رکھتاہو تو اس امانت کے بارے میں لاعلمی کا اظہار اور انکارکردیناضروری یعنی واجب ہے حاصل یہ کہ جب کوئی مقصود ومطلوب بغیرجھوٹ کہے پورانہ ہو اس صورت میں جھوٹ بولنا مباح ہے خواہ اس کاتعلق جنگ سے ہو یا مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے سے ہو یا جس کا نقصان ہوا ہو اس کی دلجوئی کے لئے ہو اوراگربادشاہ وقت اس سے ایسے گناہ کے بارے میں دریافت کرے جو اس سے ایسے گناہ کے بارے میں دریافت کرے جو اس سے درپردہ سرزد ہواہو جیسے بدکاری۔شراب نوشی وغیرہ تو اس کے لئے رواہ ہے کہ صاف کہہ دے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا کیونکہ اس کاظاہر کرنا دوسراگناہ ہے اور اس کے لئے یہ بھی جائزہے کہ کسی اور مسلمان بھائی کے بارے میں دریافت کئے پربھائی کابھید ظاہرکرنے سے انکارکر دے،اور مناسب ہے کہ آدمی جھوٹ کے فساد کاسچائی کے نتیجے سے تقابل کرے۔اگرسچائی سے فساد کا اندیشہ ہو تو جھوٹ کہناحرام ہے اور اگر اس کا تعلق اس کی اپنی ذات سے ہوتو جھوٹ نہ بولنامستحب ہے،اور اگرکسی دوسرے سے تعلق ہوتودوسرے کے حق میں چشم پوشی سے کام لینا یاصرف نظرکرنا جائزنہیں ہے اور ہوشیاری چشم پوشی نہ کرنے میں ہے کیونکہ یہ مباح ہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۲۶: ازدولت پور ضلع بلندشہر مرسلہ شیرمحمدخاں صاحب ۵/شعبان ۱۳۲۹ھ
کسی امر کاوعدہ مستحکم حلف شرعی محمدیہ سے کرے اس کے خلاف کرنا کیساہے؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع