30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الکل عن المجتبٰی وفی الوھبانیۃ قال ؎ وللصلح جازالکذب اودفع ظالم واھل لترضی والقتال لیظفروا [1] |
کہ صریح جھوٹ حرام ہے۔اﷲ تعالٰی کاارشاد ہے مارے جائیں اٹکل پچّو سے کام لینے والے۔یہ سب"المجتبٰی"سے منقول ہے،اور وہبانیہ میں فرمایا:صلح یادفع ظلم کے لئے جھوٹ بولناجائزہے بیوی کی رضاجوئی کے لئے اور جنگ میں حوصلہ افزائی کے لئے بھی جھوٹ بولنا مباح ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
الکذب مباح لاحیاء حقہ کالشفیع یعلم بالبیع باللیل فاذا اصبح یشھد ویقول علمت الاٰن وکذا الصغیرۃ تبلغ فی اللیل و تختار نفسھا من الزوج وتقول رأیت الدم الاٰن واعلم ان الکذب قدیباح وقد یجب والضابط فیہ کما فی تبیین المحارم وغیرہ عن الاحیاء ان کل مقصود محمود یمکن التوصل الیہ بالصدق والکذب جمیعا فالکذب فیہ حرام وان امکن التوصل الیہ بالکذب وحدہ فمباح ان ابیح تحصیل ذٰلك المقصود و واجب ان وجب کما لو رأی معصوما اختفی من ظالم یرید قتلہ اوایذائہ فالکذب ھنا |
اپناحق ثابت کرنے کے لئے جھوٹ بولنامباح ہے جیسے شفعہ کرنے والے کو بیع کاعلم رات کوہوا تھا صبح کے وقت یہ گواہی دے کہ مجھے ابھی ابھی سودے کے بارے میں علم ہواہے، اسی طرح نابالغہ لڑکی رات کوبالغ ہوئی اور اس نے شوہر سے صبح یہ کہا کہ میں نے ابھی ابھی خون حیض دیکھا ہے،جان لیجئے کہ جھوٹ کبھی مباح اور کبھی واجب ہوتاہے اس میں ضابطہ جیسا کہ تبیین المحارم وغیرہ میں احیاء العلوم کے حوالہ سے مذکور ہے کہ ہراچھا مطلوب کہ جس تك صدق وکذب دونوں سے رسائی ہوسکے تو اس صور ت میں جھوٹ بولناحرام ہے اور ہراچھا مطلوب جس تك رسائی صرف کذب سے ہو سکے توجھوٹ بولنا مباح ہے جبکہ اس مطلوب کو حاصل کرنا مباح ہو اور اگر مطلوب حاصل کرنا واجب ہو تو پھر جھوٹ بولنا واجب ہے جیسا کہ بے گناہ(معصوم)کودیکھے جو کسی ایسے ظالم سے روپوش ہو رہاہے جو اسے مارڈالنے یا ایذا پہنچانے کا ارادہ رکھتاہو تو ایسی صورت میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع