30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
معلوم کہ کچہری کیاحکم دے"۔اور لفظ"کل"سے زمانہ قریب مراد لے جیسے نوجوان لڑکے کوکہتے ہیں کل کابچہ،حالانکہ اس کی عمربیس بائیس سال کی ہے،اس معنی پرقیامت کو"روزفردا"کہتے ہیں کل آنے والی ہے یعنی بہت نزدیك ہے۔یامخالف کے قبضے کی نسبت سوال ہوتوکہے"اس کاقبضہ کبھی نہ تھا"یا"کبھی نہ ہوا"اور مراد یہ ہے کہ کبھی وہ وقت بھی تھا کہ اس کا قبضہ نہ تھا۔زیادہ تصریح درکارہو تو کہے"اس کاقبضہ اصلًا کسی وقت ایك آن کو نہ ہوا نہ ہے"اور معنی یہ لے کہ حقیقی قبضہ ہرشے پراﷲ عزوجل کا ہے دوسرے کا قبضہ ہونہیں سکتا،غرض جو شخص تصرفات الفاظ ومعانی سے آگاہ ہے سَوپہلے نکال سکتاہے،مگر ان کاجواز بھی صرف اسی حالت میں ہے جب یہ واقعی مظلوم ہے اور بغیر ایسی پہلوداربات کے ظلم سے نجات نہیں مل سکتی ورنہ اوپر مذکورہواکہ یہ بھی ہرگزجائزنہیں۔اب رہی یہ صورت کہ جہاں پہلودار بات سے بھی کام نہ چلے وہاں صریح کذب بھی دفع ظلم واحیائے حق کے لئے جائزہے اس بارے میں کلمات علماء مختلف ہیں،بہت روایات سے اجازت نکلتی ہے اور بہت اکابر نے منع کی تصریح فرمائی ہے حتی الوسع احتیاط اس سے اجتناب میں ہے اور شاید قول فیصل یہ ہو کہ اس ظلم کی شدت اور کذب کی مصیبت کو عقل سلیم ودین قویم کی میزان میں تولے جدھر کاپلہ غالب پائے اس سے احتراز کرے مثلًا اس کا ذریعہ رزق تمام وکمال کسی ظالم نے چھین لیا اب اگر نہ لے تو یہ اور اس کے اہل وعیال سب فاقے مریں،اور وہ بےکذب صریح نہیں مل سکتا تو اس ناقابل برداشت ظلم اشد کے دفع کو امیدہے کہ غلط بات کہہ دینے کی اجازت ہو اور اگر کسی مالدار شخص کے سَو دوسو روپے کسی نے دبالئے تو اس کے لئے صریح جھوٹ کی اجازت اسے نہ ہونی چاہئے کہ جھوٹ کافساد زیادہے اور اتنے ظلم کاتحمل اس مالدار پر ایساگراں نہیں،حدیث سے ثابت اور فقہ کاقاعدہ مقررہ بلکہ عقل ونقل کاضابطہ کلیہ ہے کہ من ابتلی بلیتین اختار اھونھما [1] ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی۔جوشخص دوبلاؤں میں گرفتار ہو ان میں جو آسان ہے اسے اختیار کرے(یہ وہ کچھ ہے جومیرے پاس تھا اور حق کاپوراپورا علم تومیرے رب ہی کے پاس ہے۔ت)درمختارمیں ہے:
|
الکذب مباح لاحیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہ و المراد التعریض لان عین الکذب حرام قال وھو الحق قال تعالٰی"قتل الخرّاصون" |
جھوٹ حرام ہے او ریہی حق ہے البتہ اپنے حق کے اظہار اور احیاء کے لئے یااپنی ذات کو ظلم ونقصان سے بچانے کے لئے جھوٹ سے کام لینا مباح ہے بشرطیکہ جھوٹ بصورت تعریض یعنی اشارہ کنایہ یاذومعانی الفاظ میں ہو اس لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع