30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رواہ ابویعلٰی [1]مسندہ عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
(ابویعلٰی نے اپنی مسند میں سندحسن کے ساتھ زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیاہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ۱۲۵: ازشہرکہنہ مرسلہ برکت اﷲ خاں صاحب ۲۱ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وہادیان متین اس مسئلہ میں کہ زید کے حقیت تعدادی ۳بسوہ جس کی قیمت تخمینًا دوہزارروپے کے تھی بعوض مبلغ دوسوبیس روپیہ بابت قرضہ بقال خود ذمہ زیدتھا نیلام ہوئی چونکہ بکرایك زبردست اور متمول تھا اس نے بلااطلاع زید کے نیلام حسب قاعدہ انگریزی خریدلیا زید کو بسبب خوف آبروقوت مقابلہ نہ تھی اور بکر نے بزعم زبردستی بجز اس قبضے کے جواز روئے نیلام حاصل ہواتھا اور کوئی کارروائی مثل داخل خارج وغیرہ نہ کرائی اس لئے نام زید کا کاغذات انگریزی میں بد ستورہے،پس اس صورت میں زید کو اپنے قبضہ کی چارہ جوئی بمقتضائے مصلحت ازروئے دروغ گوئی کہ جس سے زید کو اپناحق پانے کی قوی امیدہے یانہیں؟ دوسرے یہ کہ زید کو زر نیلام اس وقت بکر کو دیناچاہئے یاجوکچھ بکر نے اس وقت اس جائداد سے تحصیل کیاہے اس میں محسوب ہوناچاہئے،بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
اپنا حق مردہ زندہ کرنے کے لئے پہلوداربات کہنا کہ جس کا ظاہر دروغ ہو اور واقعی میں اس کے سچے معنے مراد ہوں اگرچہ سننے والا کچھ سمجھے بلاشبہہ باتفاق علمائے دین جائز اور احادیث صحیحہ سے اس کا جواز ثابت ہے جبکہ وہ حق بے اس طریقے کے ملنامیسرنہ ہو،ورنہ یہ بھی جائزنہیں،پہلوداربات یوں کہ مثلًا ظالم نے ظلمًا اس کی کسی چیز پرقبضہ مخالفانہ اس مدت تك رکھا جس کے باعث انگریزی قانون میں تمادی عارض ہوکر حق ناحق ہوجاتاہے مگرمخالف کے پاس اپنے قبضہ کاکاغذی ثبوت نہیں اس کے بیان پررکھاگیا،اگریہ اقرارکئے دیتاہے کہ واقعی مثلًا بارہ برس سے میراقبضہ نہیں تو حق جاتا اور ظالم فتح پاتا ہے،لہٰذا یوں کہنے کی اجازت ہے کہ ہاں میراقبضہ رہاہے یعنی زمانہ گزشتہ میں،اور زیادہ تصریح چاہی جائے تویوں کہہ سکتاہے کہ"آج تك میرا قبضہ چلاآیا"اورنیت میں لفظ"آیا"کو کلمہ استفہام لے جیسے کہتے ہیں آیا یہ بات حق ہے یعنی کیایہ بات حق ہے،تو استفہام انکاری کے طور پر اس کلمے کا یہ مطلب ہوا کہ کیا آج تك میراقبضہ چلایعنی ایسانہ ہوا بلکہ میراقبضہ منقطع ہوکر مخالف کاقبضہ چلا یعنی ایسا نہ ہوا بلکہ میراقبضہ منقطع ہوکرمخالف کاقبضہ ہوگیا،یایوں کہے"کل تك برابرمیراقبضہ رہا آج کاحال نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع