30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۲۴: ۲۰محرالحرام ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں،زید اور عمرو نے مال بشراکت خریدکیا پھرزید نے عمرو سے کہا تم اس کو لو یامجھے دو۔زید نے نفع دے کرلے لیا،عمرو سے۔عمرونے پھرکہازید سے،تم نے بدعہدی کی یعنی شرکت نہیں کی۔آیا یہ بدعہدی ہے یانہیں؟
الجواب:
جبکہ عمروخودقطع شرکت پرراضی ہوگیا اور نفع لےکر مال دے دیا توزید کے ذمہ کوئی الزام بدعہدی کا نہیں بلکہ جوشخص کسی سے ایك امرکاوعدہ کرے اور اس وقت اس کی نیت میں فریب نہ ہو بعد کو اس میں کوئی حرج ظاہرہو اور اس وجہ سے اس امر کو ترك کرے تو اس پربھی خلاف وعدہ کاالزام نہیں،حضورپرنور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لیس الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان یفی ولکن الخلف ان یعد الرجل ومن نیتہ ان لایفی۔ |
یہ بدعہدی نہیں کہ آدمی(کسی شخص سے)وعہد کرے اور نیت اسے پورا کرنے کی ہو اور پورا نہ کرسکے،بلکہ بدعہدی یہ ہے کہ آدمی وعدہ کرے اور اسے پوراکرنے کاسرے سے ارادہ ہی نہ ہو۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع