30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سائل مظہرکہ وہ ایسی جگہ نہ تھی جہاں قانونًا گائے ذبح کرناجرم ہو بلکہ وہاں ہمیشہ سے قربانی ہوتی ہے تو اس صورت میں عمرو کی ممانعت ہرگز اس پرمحمول نہیں ہوسکتی کہ اپنے بھائی مسلمان کو حضرت قانونی سے بچانا چاہتاتھا بلکہ محض قصدًا ایذاء واضرارتھا اورنالش کرنا اس پردلیل واضح کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ تعالٰی علم۔
مسئلہ ۱۱۰: ۲۱صفر ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص سے محرم کے تخت بنانے میں چندہ کی شرکت کو کہاگیا دس دس آنے سب پر ڈالے تھے اس نے بھی دئیے مگر کہاہم اپنے ذمہ اس کی کرنہ باندھیں گے اگر چاہیں گے دیں گے اور جتنا چاہیں گے دیں گے،اس پرلوگوں نے اسے برادری سے نکال دیا اور حقہ پانی ڈال دیا اور کھچڑا جو حضرت امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نیاز کا اس نے پکاکرمسلمانوں میں تقسیم کیا وہ لوگوں کو نہ لینے دیا اور کہایہ بھنگی کے یہاں کاہے،اس صورت میں شرع کاکیاحکم ہے؟ بیّنوا توجروا (بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
صورت مذکورہ میں اس شخص کے ذمہ جوالزام برادری والوں نے قائم کیا شرع کی رو سے بالکل باطل ہے وہ اس الزام سے بری ہے بلکہ اس وجہ سے جو لوگ اسے چھوڑے اور برادری سے نکالتے ہیں وہ گنہگار ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لاتھاجروا ولاتدابروا ولاتباغضوا ولاتنافسوا و کونوا عباداﷲ اخوانا[1]۔ |
لوگو! ایك دوسرے کو نہ چھوڑو اور نہ ایك دوسرے سے پیٹھ پھیرو اور نہ آپس میں بغض وکینہ رکھو اور نہ ایك دوسرے پر فخرکرو(اور نہ مقابلہ کرنے کی کوشش کرو۔اﷲ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔(ت) |
دوسرا الزام ان لوگوں پریہ ہے کہ ایك فضول وبیجا کام میں شرکت سے انکارپریہ تشدّد کیا اور نیاز میں کہ مقبول ومحمود کام ہے رخنہ ڈالنا۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۱: ازملك بنگالہ ضلع نواکھالی مرسلہ مولوی عبدالباری صاحب ۲۳شعبان ۱۳۲۰ھ
ماقولکم رحمکم اﷲ(اﷲ تعالٰی آپ پررحم فرمائے آپ کاکیافرمان ہے۔ت)کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع