30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے:
|
لو ان عسکرا من المسلمین دخلوا دارالحرب فاھدی امیرھم الی ملك العدو ھدیۃ فلاباس بہ وکذلك لوان امیرالثغور اھدی الی ملك العدوھدیۃ واھدی ملك العدو الیہ ھدیۃ[1]۔وقال اﷲ تعالٰی " وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ "[2] وتمام تحقیقہ فی فتاوٰنا وقال تعالٰی " وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا"[3] وقال تعالٰی اِلَّا الَّذِیۡنَ عٰہَدۡتُّمۡ مِّنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ثُمَّ لَمْ یَنۡقُصُوۡکُمْ شَیْـًٔا وَّلَمْ یُظٰہِرُوۡا عَلَیۡکُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوۡۤا اِلَیۡہِمْ عَہۡدَہُمْ اِلٰی مُدَّتِہِمْ ؕ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیۡنَ ﴿۴﴾[4] وقال تعالٰی " وَاَوْفُوۡا بِالْعَہۡدِ ۚ اِنَّ الْعَہۡدَکَانَ مَسْـُٔوۡلًا ﴿۳۴﴾"[5] و عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الصلح جائز بین المسلمین الاصلحا احل حراما او حرم حلالا[6] وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ |
اگراسلامی فوج دارحرب میں داخل ہو،پھر ان کا امیردشمن کے حکمران کو کوئی ہدیہ پیش کرے تو اس میں کچھ حرج نہیں۔اور اسی طرح اگرامیرسرحد اسلامی دشمن کے بادشاہ کو کوئی ہدیہ پیش کرے اور دشمن کابادشاہ اسلامی امیر کوکوئی تحفہ وہدیہ پیش کرے(تو دونوں صورتوں میں کچھ مضائقہ نہیں)،اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا اور مسلمان پارساعورتیں،اور ان لوگوں کی پارسا عورتیں جن کو تم سے پہلے کتاب عطاہوئی(یعنی اہل کتاب یہودی اور عیسائی)جب تم انہیں ان کے مہر اداکردو (تو پھر ان دونوں سے عقد نکاح کرنا جائز ہے)اور اس کی پوری تحقیق ہمارے فتاوٰی میں مذکورہے۔اور اﷲ تعالٰی نے ارشادفرمایا:اگر وہ صلح کے لئے جھك جائیں توپھر تم بھی اس کے لئے جھك جاؤ۔اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا:مگروہ شرك کرنے والے کہ جن سے تم نے معاہدہ کیاپھر انہوں نے تم سے کوئی کمی نہ کی اورتم پر کسی کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع