30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یعرفون بذلك ولہ فی ذلك منفعۃ فلاباس بان یعصیھما[1]۔ |
اور وہ لوگ بھی وعدہ پورا کرتے ہوں بلکہ ایفائے عہد میں مشہور ومعروف ہوں،اور اس جانے اور سفرکرنے میں اس کاذاتی فائدہ بھی ہو تو اس کے جانے میں کچھ مضائقہ اور حرج نہیں۔(ت) |
ہندیہ میں ہے :
|
اذا اراد المسلم ان یدخل دارالحرب بامان للتجارۃ لم یمنع ذٰلك منہ و کذٰلك اذا اراد حمل الامتعۃ الیھم فی البحر فی السفینۃ[2]۔ |
جب کوئی مسلمان دارِحرب میں امان لےکر تجارت کے لئے داخل ہوتو اسے اس سفر سے نہ روکاجائے اور یہی حکم ہے جب کوئی شخص بحری بیڑے میں سامان لادکر ان کی طرف جانا چاہے(تو اسے بھی اس سفر سے نہ روکاجائے)۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
قال محمد لاباس بان یحمل المسلم الی اھل الحرب ما شاء الاالکراع والسلاح فان کان خُمرا من باریسم او ثیابا رقاقا من القز فلاباس بادخالھا الیھم ولا باس بادخال الصفر والشبھۃ الیھم لان ھذا لا یستعمل للسلاح[3]۔ |
امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا اگرکوئی مسلمان اہل عرب کی طرف جوکچھ اٹھاکر لے جاناچاہے تو اس میں کچھ حرج نہیں مگر یہ کہ گھوڑے اور ہتھیار(نہ لے جائے)پھراگرخالص ریشم یاسنہری باریك کپڑے ہوں تو انہیں وہاں جانے میں کچھ حرج نہیں نیز سونا،پیتل اور ان جیسی اشیاء کے وہاں لے جانے میں کچھ مضائقہ نہیں،ا س لئے کہ اشیاء مذکورہ ہتھیاروں کے لئے استعمال نہیں کی جاتیں۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
لایمنع من ادخال البغال والحمیر والثور والبعیر[4]۔ |
خچر،گدھے،بیل اور اونٹ وغیرہ لے جانے سے نہ روکا جائے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع