30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:موالات ومجرد معاملہ میں زمین وآسمان کافرق ہے دنیوی معاملت جس سے دین پرضرر نہ ہو سوا مرتدین مثل وہابیہ دیوبندیہ وامثالہم کے کسی سے ممنوع نہیں ذمی تومعاملت میں مثل مسلم ہے لھم مالنا وعلیھم ماعلینا(ان کے لئے ہے جوکچھ ہمارے لئے ہے،اور ان پروہی کچھ لازم ہے جوکچھ ہم پر لازم ہے۔ت)اور غیرذمی سے بھی خرید،فروخت،اجارہ،استجار، ہبہ،استیہاب بشروطہاجائز،خریدنا مطلقًا ہرمال کاہرمسلمان کے حق میں متقوم ہو اور بیچناہرجائز چیزکاجس میں اعانت حرب یا اہانت اسلام نہ ہو،اسے نوکررکھنا جس میں کوئی کام خلاف شرع نہ ہو اس کی جائز نوکری کرنا جس میں مسلم پر اس کا استعلا نہ ہو ایسے ہی امور میں اجرت پر اس سے کام لینایا اس کاکام کرنا بمصلت شرعی سے ہدیہ دینا جس میں کسی رسم کفر کا اعزاز نہ ہو اس کاہدیہ قبول کرنا جس سے دین پراعتراض نہ ہو حتی کہ کتابیہ سے نکاح کرنا بھی فی نفسہٖ حلال ہے وہ صلح کی طرف جھکیں تومصالحت کرنامگروہ صلح کہ حلال حرام کرے یاحرام کوحلال،یونہی ایك حد تك معاہدہ وموادعت کرنابھی اور جوجائز عہدکرلیا اس کی وفا فرض ہے اور عذر حرام الٰی غیرذٰلك من الاحکام(اور اس کے علاوہ باقی احکام۔ت) درمختارمیں ہے:
|
والمرتدۃ تحبس ابدا ولاتجالس ولاتؤاکل حتی تسلم ولاتقتل [1]اھ قلت وھوالعلۃ فانھا تبقی ولا تفنی وقد شملت المرتد فی اعصارنا وامصارنا فالامتناع القتل۔ |
(اسلام سے پھرجانے والی)مرتد عورت ہمیشہ قید وبند میں رکھی جائے۔پس اس کے ساتھ نشست برخاست نہ کی جائے یہاں تك کہ وہ مسلمان ہوجائے لیکن وہ قتل نہ کی جائےاھ میں کہتاہوں یہی وہ علت ہے جوہمیشہ باقی رہتی ہے کبھی ختم نہیں ہوتی،پس ہمارے زمانے اور ہمارے شہروں میں یہی علت مرتد مرد کوبھی شامل ہے اس لئے کہ اسے قتل نہیں کیاجاسکتا۔(ت) |
محیط میں ہے:
|
اذا اراد الخروج للتجارۃ الی ارض العدو بامان فان کان امیرا لایخاف علیہ منہ وکانوا قومًا یوفون بالعھد |
جب دشمن کے ملك میں اجازت نامہ لے کر پُرامن طور پر کاروبار کرنے کے لئے جائے پھراگر امیرایسا ہوکرجانے والے کو اس سے کوئی خوف وخطرہ نہ ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع