30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۹۵: ازگلگٹ چھاؤنی جوئنال مرسلہ سیدمحمد یوسف علی شعبان ۱۳۱۲ھ
جناب مولوی صاحب مخدوم مکرم سلامت بعد آداب تسلیمات کے گزارش یہ ہے کہ شیعہ کے ساتھ برتاؤ کرناجائزہے یانہیں؟ بیّنوا توجروا۔
الجواب:
رافضی وغیرہ بدمذہبوں میں جس کی بدعت حدکفر تك پہنچی ہو وہ تومرتد ہے اس کے ساتھ کوئی معاملہ مسلمان بلکہ کافرذمی کے مانند بھی برتاؤ جائزنہیں،مسلمانوں پرلازم ہے کہ اُٹھنے بیٹھنے کھانے پینے وغیرہا تمام معاملات میں اسے بعینہ مثل سوئر کے سمجھیں اور جس کی بدعت اس حد تك نہ ہو اس سے بھی دوستی محبت تو مطلقًا نہ کریں۔
|
قال اﷲ تعالٰی وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ ؕ" "[1]۔ |
اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی رکھے گا تو وہ یقینا انہی میں سے ہوگا(ت) |
اور بے ضرورت ومجبوری محض کے خالی میل جول بھی نہ رکھیں کہ بدمذہب کی محبت آگ ہے اور صحبت ناگ اور دونوں سے پوری لاگ۔رب عزوجل فرماتاہے:
|
" وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾"[2] |
اگرتجھے شیطان بھلاڈالے تو یاد آجانے کے بعد ظالموں کے ساتھ مت بیٹھو۔(ت) |
جاہل کو ان کی صحبت سے یوں ا جتناب ضرورہے کہ اس پراثربد کاذیادہ اندیشہ ہے اور عام مقتدا،یوں بچے کہ جہال اسے دیکھ کو خود بھی اس بلا میں نہ پڑیں بلکہ عجب نہیں کہ اسے ان سے ملتادیکھ کر ان کے مذہب کی شناعت ان کی نظروں میں ہلکی ہوجائے۔فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
یکرہ للمشہور المقتدٰی بہ الاختلاط الی رجل من اھل الباطل والشر الابقدر الضرورۃ لانہ یعظم امرہ بین یدی الناس ولوکان رجل لایعرف یداریہ لیدفع الظلم عن نفسہ من غیراثم فلاباس بہ کذا فی الملتقط[3]۔ |
مشہور پیشواکے لئے ایسے شخص سے میل جول رکھنا جواہل باطل اور اہل شر میں سے ہو مکروہ ہے مگر ضرورت کی حد تك جائزہے(یہ ممانعت اس لئے ہے کہ)کہ لوگوں میں اس کا چرچا ہوجائے گا (جس کے بُرے اثرات مرتب ہوں گے)اور اگر غیرمعروف شخص ان میں محض اپنے دفاع اور ظلم سے بچاؤ کے لئے گھومے پھرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔الملتقط میں یونہی مذکورہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع