30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوازدہم: بیشك یہ حرکت مسلمانوں کے لئے موجب نفرت ہوگی اور بلاوجہ شرعی مسلمانوں کومتنفر کرناجائزنہیں،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
بشّروا ولاتنفّروا۔رواہ الائمۃ احمد والبخاری[1] ومسلم والنسائی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
دل خوش کرنے والی بات کہو او رنفرت نہ دلاؤ(ائمہ مثلًا امام احمد،بخاری،مسلم اور نسائی نے حضرت انس کے حوالے سے اس کو روایت کیاہے۔اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو۔ت) |
سیزدہم: اقل درجہ اتنا تو ہے کہ یہ بات سننے والوں کے کانوں کوخوش نہ آئے گی اور ایسے فعل سے شرع میں ممانعت ہے،حدیث میں آیا سیدالکونین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
ایاك ومایسوء الاذن۔رواہ احمد[2] عن ابی الغادیۃ و الطبرانی فی الکبیر وابن سعد فی الطبقات و العسکری فی الامثال وابن مندۃ فی المعرفۃ و الخطیب فی المؤتلف عن ام الغادیۃ وابونعیم فی المعرفۃ عن حبیب بن الحارث رضی اﷲ تعالٰی عنھم وعبداﷲ بن احمد فی الزوئد عن العاص بن عمر و الغفاری مرسلا۔ |
بچ اس بات سے جو کان کو بری لگے(امام احمد نے ابوالغادیہ سے اور طبرانی نے الکبیر میں اور ابن سعد نے طبقات میں اور العسکری نے امثال میں اور ابن مندہ نے المعرفۃ میں اور خطیب نے المؤتلف میں ام الغادیہ سے،ابونیم نے المعرفۃ میں حبیب بن حارث سے(اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو) عبداﷲ بن احمد نے زوائد میں عاص بن عمروغفاری سے بغیر کسی سند کے روایت کیاہے(العکرۃ،اس لفظ کی صحیح سمجھ میں آئی)۔(ت) |
چہاردہم: مسلمانوں کے آگے معذرت کی طرف محتاج کرے گی اور عاقل کاکام نہیں کہ ایسی بات کامرتکب ہو،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ایاك وکل امریعتذرمنہ۔رواہ ایضًا الدیلمی [3] بسند حسن عن انس رضی اﷲ |
اس بات سے بچ جس میں عذر کرنے کی حاجت پڑے۔(دیلمی نے سندحسن کے ساتھ حضرت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع