30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان المطلق لایحمل علی المقید وان اتحد الحکم والحادثۃ مالم تدع الیہ ضرورۃ کما فی الفتح [1]۔ |
فرمائی ہے کہ حکم مطلق کسی مقید پرمحمول نہیں کیاجائے گا اگرچہ حکم اور حادثہ ایك ہوں جب تك کہ کوئی ضرورت داعی نہ ہو جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔(ت) |
تو ان کامحمل یہی صورت کراہت ہے جو ابھی مذکورہوئی اور اطلاق اس بناء پر کہ اکثرلوگ اسی قسم کے ہوتے ہیں اور احکام کی بناء کثیروغالب پرہے۔درمختارمیں ہے:
|
اذا خرج من بلدۃ بھا الطاعون فان علم ان کل شیئ بقدر اﷲ تعالٰی فلابأس بان یخرج ویدخل وان کان عندہ انہ لوخرج نجا ولودخل ابتلی بہ کرہ لہ ذٰلك فلایدخل ولایخرج صیانۃ لاعتقادہ و علیہ حمل النھی فی الحدیث الشریف۔مجمع الفتاوٰی[2] اھ۔ |
جب کوئی کسی ایسے شہر سے نکلے جہاں طاعون پھیلاہوا ہو اگروہ جانتا اور پختہ یقین رکھتاہو کہ ہرچیز اﷲ تعالٰی کی قضا و قدر سے وقوع پذیر ہوتی ہے تو اس کی آمدورفت،دخول و خروج میں کوئی حرج نہیں اور اگر اس کے خیال میں یہ ہو کہ اگریہاں سے باہرچلاگیا تو بچ جاؤں گا اور یہاں سے نہ نکلا تو مرض میں مبتلاہوجاؤں گا توایسے شخص کے لئے نقل وحرکت مکروہ ہے لہٰذا نہ مقام طاعون پرجائے اور نہ مقام طاعون سے نکلے اپنے اعتقاد کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لئے۔پس اسی حدیث شریف کی نہی محمول ہےاھ۔(ت) |
اسی طرح فتاوٰی ظہیریہ میں ہے وتمام تحقیقہ فی ماعلقناہ علی ردالمحتار(اس کی پوری تحقیق ہم نے ردالمحتار(فتاوٰی شامی) کے حواشی پرچڑھادی ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
___________
رسالہ
تیسرالماعون للسکن فی الطاعون
ختم ہوا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع