30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الطعن والطاعون [1]۔ |
یہ بیعت(عہدوپیمان)لیتے کہ ایك تودشمن کے نیزوں سے نہ بھاگنا دوسرے مقام طاعون سے نہ بھاگنا۔(ت) |
یہاں سے خوب ثابت وظاہر ہوا کہ مسلمانوں کو فرار عن الطاعون کی ترغیب دینے والا ان کا خیرخواہ نہیں بدخواہ ہے اور طبیبوں ڈاکٹروں کاا س میں صبرواستقلال سے منع کرنا خیر وصلاح کے خلاف باطل راہ ہے،اﷲ عزوجل نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو سارے جہاں کے لئے رحمت بناکربھیجا اور مسلمانوں پربالتخصیص رؤف رحیم بنایا اور صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لئے ارحم امتی بامتی ابوبکر[2] (میری امت میں میری امت کے ساتھ سب سے بڑے مہربان ابوبکرصدیق(رضی اﷲ تعالٰی عنہ)ہیں۔ت)حدیث میں آیا یعنی جو رأفت ورحمت میری امت کے حال پر ابوبکر کو ہے اتنی تمام امت میں کسی کو نہیں،
اگرطاعون سے بھاگنے میں بھلائی اور ٹھہرنے میں برائی ہوتی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہ اپنی امت پرماں باپ سے زیادہ مہربان ہیں کیوں ٹھہرنے کی ترغیب دیتے اور بھاگنے سے اس قدر تاکید شدید کے ساتھ منع فرماتے اور صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ تمام امت میں سب سے بڑھ کر خیرخواہ امت ہیں کیوں اس سے نہ بھاگنے کاعہدوپیمان لیتے،معلوم ہوا کہ طاعون سے بھاگنے کی ترغیب دینے والے ہی حقیقۃً امت کے بدخواہ اور الٹی مت سمجھانے والے ہیں والعیاذباﷲ تعالٰی،جیسے کوئی بدعقل بے تمیز کج فہم عورت پڑھنے کی محنت استاذ کی شدت دیکھ کر اپنے بچے کو مکتب سے بھاگ آنے کی ترغیب دے وہ اپنے خیال باطل میں اسے محبت سمجھتی ہے حالانکہ صریح دشمنی ہے ع
دوستی بیخرداں دشمنی ست
(بیوقوفوں کی دوستی درحقیقت دشمنی ہوتی ہے۔ت)
بدنصیب وہ بچہ کہ اس کے کہنے میں آجائے اور مہربان باپ کی تاکید وتہدید خیال میں نہ لائے بلکہ انصافًا یہ حالت اس مثال سے بھی بدترہے مکتب میں پڑھنے کی محنت سبھی پرہوتی ہے اور شدت بھی غالب واکثری ہے اور جہاں طاعون پھوٹے وہاں سب یا اکثر کامبتلاہونا کچھ ضرورنہیں بلکہ باذنہ تعالٰی محفوظ ہی رہنے والوں کا شمار زائدہوتاہے ولہذا آگ اور زلزلے پر اس کاقیاس باطل "وَلَا تُلْقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمْ اِلَی التَّہۡلُکَۃِۚۖۛ"[3] (لوگو! اپنے ہاتھوں ہلاك میں نہ پڑو۔ت)کے نیچے سمجھنامحض وسوسہ ہے کہ ان میں ہلاك غالب ہے جیساکہ کلام حضرت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع