30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نمودہ اندنیست ولہٰذا دراحادیث بہ لفظ وبا وموت عام مذکورشدہ واگرچہ بلفظ طاعون نیز واقع شدہ امامرادمعنی وباست وغلط کردہ کہ طاعون رابرمصطلح اطباء حمل کردہ ودر غیرآں فرار مباح داشتہ واگر فرضا برہمیں معنی محمول باشد فردے ازوبا خواہد بود نہ مخصوص بآں وایں قائل آں احادیث را کہ دروے لفظ وبا وموت عام واقع شدہ چہ خواہد گفت۔ نسأل اﷲ العافیۃ[1]۔ |
ذکرکیاگیا اگرچہ لفظ طاعون بھی وارد ہواہے لیکن اس میں بھی وبا کے معنی مراد ہیں۔لہٰذا یہ غلطی ہوگئی کہ طاعون کو طبیبوں کی خصوصی اصطلاح پرقیاس کرلیاگیا اس لئے دوسری وبائی امراض سے بھاگنا مباح سمجھاگیا،اگربالفرض اسی معنی پر بھی کلام کومحمول کیاجائے تو پھر وہ ازقسم وبا ہوجائے گا نہ کہ اس معنی کے ساتھ مخصوص۔لہٰذا یہ قائل ان حدیثوں کے متعلق کیاکہے گا کہ جن میں لفظ وبا اور موت عام کے الفاظ مذکور ہوئے ہیں۔ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت کاسوال کرتے ہیں۔(ت) |
فائدہ: امام احمدمسند اور ابن سعد طبقات میں ابوعسیب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسندصحیح روایت کرتے ہیں،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اتانی جبرئیل بالحمی والطاعون فامسکت الحمی بالمدینۃ وارسلت الطاعون الی الشام فالطاعون شھادۃ لامتی ورحمۃ لھم ورجس علی الکافرین[2]۔ |
میرے پاس جبرئیل امی علیہ الصلٰوۃ والتسلیم بخار اور طاعون لے کرحاضرہوئے میں نے بخار مدینہ طیبہ میں رہنے دیا اور طاعون ملك شام کو بھیج دیا،تو طاعون میری امت کے لئے شہادت ورحمت اور کافروں پرعذاب ونقمت ہے۔ |
صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ کومعلوم تھا کہ طاعون کو ملك شام کاحکم ہوا ہے اور بلادشام فتح کرنے تھے لہٰذا صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ جو لشکرملك شام کو روانہ فرماتے اس سے دونوں باتوں پریکساں بیعت وعہدوپیمان لیتے،ایك یہ کہ دشمنوں کے نیزوں سے نہ بھاگنا،دوسرے یہ کہ طاعون سے نہ بھاگنا،امام مسدد استاذ امام بخاری ومسلم اپنی مسند میں ابوالسفر سے روایت کرتے ہیں:
|
قال کان ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ اذا بعث الی الشام بایعھم علی |
ابوالسفر نے کہا حضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ جب کوئی لشکر ملك شام روانہ فرماتے تو ان سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع