30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" تَوَلَّوْا مِنۡکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیۡطٰنُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوۡاۚ وَلَقَدْ عَفَا اللہُ عَنْہُمْؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ﴿۱۵۵﴾٪ "[1]وقال جل من قائل " وَلَقَدْ عَفَا عَنۡکُمْؕ وَاللہُ ذُوۡ فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ﴿۱۵۲﴾ " " اِذْ تُصْعِدُوۡنَ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰۤی اَحَدٍ وَّ الرَّسُوۡلُ یَدْعُوۡکُمْ فِیۡۤ اُخْرٰىکُمْ فَاَثٰبَکُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ "[2] الآیۃ۔ |
میں سے جن لوگوں نے دوجماعتوں کے(جنگ کیلئے)آمنے سامنے آجانے والے دن منہ پھیرا۔ان کے بعض افعال کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلادیا بےشك اﷲ تعالٰی نے انہیں معاف کردیا کیونکہ اﷲ تعالٰی معاف فرمانے والا بردبار ہے،اور اس نے ارشاد فرمایا جوکہنے والوں سے بڑی شان رکھتا ہے،بے شك اﷲ تعالٰی نے تمہیں معاف فرمادیا اور اﷲ تعالٰی مومنوں پراحسان فرمانے والا ہے،اور یادکرو جب تم اوپر چڑھ رہے تھے اور پیچھے مُڑ کربھی نہ دیکھتے تھے اور رسول مکرم تمہیں آوازیں دے کربلارہے تھے پھرتمہیں غم پرغم نے آلیا الآیۃ(ت) |
معالم میں ہے:
|
قرأ ابوعبدالرحمٰن السلمی وقتادۃ تصعدون بفتح التاء والعین والقراءۃ المعروفۃ بضم التاء وکسر العین والاصعاد السیر فی الارض والصعود الارتفاع علی الجبال والسطوح وکلیتا القراء تین صواب فقد کان یومئذ من المنھزمین مصعد وصاعد[3]اھ باختصار۔ |
ابوعبدالرحمن سلمی اور قتادہ نے اس لفظ تصعدون کے حرف تاء اور عین کو زبر سے پڑھا ہے جبکہ مشہور قرأت تاء کی پیش اور عین کی زیر کے ساتھ ہے،پھر وہ اس طور پر ابواب مزید باب افعال سے ہونے کی وجہ سے"اَلاِصْعَاد"سے بناہے جس کے معنی"زمین میں چلنا"ہے جبکہ پہلے طور پرمجرد ہونے کی وجہ سے لفظ"صعود"سے بناہے جس کے معنی"اوپرچڑھنا، بلندی پرجانا"ہے خواہ چھتوں پرہویاپہاڑوں پر۔اور دونوں قراتیں درست اور صحیح ہیں۔پس اس دن کچھ شکست خوردہ لوگ منہ اٹھائے بھاگے جارہے تھے او رکچھ قریبی پہاڑی پرچڑھ رہے تھےاھ باختصار(ت) |
سادسًا: جن حکمتوں کی بناپر حکیم کریم رؤف رحیم علیہ وعلٰی آلہ الصلٰوۃ والتسلیم نے طاعون سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع