30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا انھا قالت سألت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الطاعون فاخبرنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان عذابا یبعثہ اﷲ تعالٰی علی من یشاء فجعلہ رحمۃ للمؤمنین،فلیس من رجل یقع الطاعون فیمکث فی بیتہ صابرًا محتسبًا یعلم انہ لایصیبہ الاما کتب اﷲ لہ الا کان لہ مثل اجر الشھید [1]۔ |
بیان کیا اس نے یحیٰی بن یعمر سے اس نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کی انہوں نے فرمایامیں آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا۔ت)تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا طاعون ایك عذاب تھا کہ اﷲ تعالٰی جس پر چاہتابھیجتا اور اس امت کے لئے اسے رحمت کردیاہے تو جو شخص زمانہ طاعون میں اپنے گھر میں صبرکئے طلب ثواب کے لئے اس اعتقاد کے ساتھ ٹھہرا رہے کہ اسے وہی پہنچے گا جو خدا نے لکھ دیا ہے اس کے لئے شہید کا ثواب ہے۔ |
اس حدیث صحیح میں خاص اپنے گھر میں ٹھہرے رہنے کی تصریح ہے۔
ثالثًا: ذراغورکیجئے تو اس حدیث اور حدیث بخاری میں اصلًا اختلاف نہیں،صحیح بخاری کتاب الطب کے لفظ یہ ہیں:
|
لیس من عبد یقع الطاعون فیمکث فی بلدہ صابرا [2]۔ |
کوئی ایسا بندہ نہیں کہ طاعون واقع ہو اور وہ اپنے شہرمیں صبر کے ساتھ ٹھہرارہے(ت) |
اور ذکربنی اسرائیل میں:
|
لیس من احد یقع الطاعون فیمکث فی بلدہ صابرا محتسبا[3]۔ |
کوئی ایساشخص نہیں کہ طاعون واقع ہو پھر وہ اپنے شہرمیں صبر کرتے ہوئے ثواب کی خاطر ٹھہرا رہے۔(ت) |
اور بداہۃً معلوم ہے کہ مطلقًا روئے زمین میں سے کسی جگہ وقوع طاعون مراد نہیں تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع