30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے فورًا رجوع فرمائی اور ان کی تصدیق کی۔
|
اخرج ابن خزیمۃ فی صحیحہ عن عبدالرحمٰن بن غنم قال وقع الطاعون بالشام فقال عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان ھذا الطاعون رجس ففروا منہ فی الادویۃ والشعاب،فبلغ ذٰلك شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فغضب وقال کذب عمروبن العاص فقد صحبت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعمرواضل من جمل اھلہ،ان ھذا الطاعون دعوۃ نبیکم ورحمۃ ربکم ووفاۃ الصالحین قبلکم[1] الحدیث ولفظ ابن عساکر عن عبد الرحمٰن بن غنم قال کان عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ حین احس بالطاعون فرق فرقًا شدیدا فقال یا ایھا الناس تبددوا فی ھذہ الشعاب وتفرقوا فانہ قد نزل بکم امرمن اﷲ تعالٰی لا اراہ الا رجزا اوالطوفان قال شرحبیل بن حسنۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قد صحابنا رسول اﷲ |
ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں حضرت عبدالرحمن ابن غنم کے حوالے سے تخریج فرمائی،فرمایا ملك شام میں طاعون کا مرض پھوٹ پڑا تو حضرت عمروبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا(لوگو!)یہ طاعون اﷲ تعالٰی کاعذاب ہے لہٰذا اس سے بھاگ کر وادیوں اور پہاڑی گھاٹیوں میں چلے جاؤ،پھر شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو یہ اطلاع پہنچی تو غضبناك ہوئے اور فرمایا عمروبن عاص نے غلط کہا ہے کیونکہ میں حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ رہاہوں لیکن عمرو تو زیادہ بھٹکاہوا ہے اپنے گھر کے اونٹ سے،بلاشبہہ یہ طاعون تمہارے نبی کی دعوت ہے اورتمہارے پروردگار کی رحمت اور تم سے پہلے نیك لوگوں کی وفات ہے (الحدیث) ابن عساکر حضرت عبدالرحمن بن غنم کے حوالے سے یوں کہتے ہیں اس نے فرمایا حضرت عمروبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو جب طاعون محسوس ہوا تو وہ انتہائی خوفزدہ ہوئے اور فرمایا(لوگو!)ان گھاٹیوں میں الگ الگ اور منتشرہوجاؤ کیونکہ تم پر اﷲ تعالٰی کا امر(عذاب)نازل ہوگیاہے اور میں اس کو عذاب یاطوفان ہی خیال کرتاہوں،حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع