30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الطاعون رجز ارسل علی بن اسرائیل اوعلی من کان قبلکم فاذا سمعتم بہ بارض فلاتقدموا علیہ واذ وقع بارض وانتم بھا فلاتخرجوا فرار منہ[1]۔ |
وہ حضرات اسامہ بن زید سے پوچھ رہے تھے کہ آپ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق کیا سنا،یہ کہ طاعون ایك عذاب ہے جو بنی اسرائیل یا ان سے پہلے لوگوں پربھیجاگیا لہٰذا جب تم اس کے بارے میں سنو کہ فلاں زمین میں پھیل گیا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جس جگہ تم مقیم ہو وہاں طاعون پیداہوجائے تو اس سے بھاگتے ہوئے وہاں سے باہر نہ جاؤ اور(جگہ قیام)نہ چھوڑو۔(ت) |
اور اس کے بعد خود اسے حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:
|
ای یرسل ارسالا ثقۃ بروایۃ اسامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
یعنی ارسال فرماتے ہوئے حضرت اسامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی روایت پراعتماد کرتے ہوئے(ت) |
صحیح مسلم شریف میں بعد ذکرحدیث اسامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہے:
|
وحدثنیہ وھب بن بقیۃ فذکر بسندہ عن ابراھیم بن سعد بن مالك عن ابیہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بنحوحدیثھم[2]۔ |
مجھ سے وہب بن بقیہ نے بیان کیاپھر اس نے اپنی سند سے ان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی(اور سند یہ ہے)ابراہیم بن سعد بن مالك کے حوالہ سے اس نے اپنے والدگرامی سعد بن مالك کے حوالہ سے انہوں نے خود حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت فرمائی۔(ت) |
تو دو ایك صحابہ سے جو اس کا خلاف مروی ہوا اطلاع حدیث سے پہلے تھا جیسے عمروبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہ طاعون سے بہت خوب کرتے لوگوں کومتفرق ہوجانے کی رائے دی معاذبن جبل رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہ اعلم الناس بالحلال والحرام وامام العلماء یوم القیام(جو سب لوگوں سے زیادہ حلال وحرام کو جاننے والے ہیں اور قیامت کے دن علمائے کرام کے امام ہوں گے۔ت)ہیں ان کا رَدّ شدید کیا اور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث بیان کی اور شرحبیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاتب وحی نے نہایت شدت سے رَد کیا اور فرار عن الطاعون سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کامنع فرمانا روایت کیا،عمروبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع