30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
ساتھ برابرہوجائے گا حالانکہ یہ بات نص قرآن کے خلاف ہے،چنانچہ ارشاد ربانی ہے:"کیاہم پرہیزگاروں کوفاجروں کے برابر کردیں گے؟" چنانچہ علامہ ابن عبدالبرنے یہی فرمایاہے۔(ت) |
جس امر میں رائے واجتہاد کودخل نہ ہو اس میں قول صحابی دلیل قول رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے ورنہ جس حدیث کی مخالفت کی اگر اس کے راوی خود یہ صحابی ہیں اور مخالفت صرف ظاہر نص کی ہے مثلا عام کی تخصیص یامطلق کی تقیید تویہ اثر صحابی اس حدیث مرفوع کی تفسیر ٹھہرے گا اور اسے اسی خلاف ظاہرپرمحمول سمجھاجائے گا اور مخالفت مفسر کی ہے تو صریح دلیل ہے کہ وہ حدیث منسوخ ہوچکی صحابی کو اس کاناسخ معلوم تھا،اور اگر یہ خود اس کے راوی نہیں تویہ معاملہ اگر اس قابل نہ تھا کہ ان صحابی پرمخفی رہتا تو ان کی مخالفت اس روایت مرفوعہ کے قبول میں شبہہ ڈالے گی ورنہ حدیث ہی مرجح ہے جیسا کہ غیرصحابہ کے قول وفعل پرمطلقًا جب تك حد اجماع تك نہ پہنچے۔مسلم الثبوت میں ہے:
|
روی الصحابی وحمل ظاھرا علی غیرہ کتخصیص العام فالحنفیۃ علی ماحمل لان ترك الظاھر بلاموجب حرام فلایترکہ الابدلیل قطعا ولوترك نصًا مفسرا تعین علمہ بالناسخ فیجب اتباعہ وان عمل بخلاف خبرہ غیرہ فان کان صحابیا فالحنفیۃ ان کان ممایحتمل الخفاء لایضر او لا فیقدح وان کان غیر صحابی ولواکثر الامۃ فالعمل بالخبر [1]اھ مختصرًا۔ |
اگر خود صحابی نے روایت کی اور حدیث کے ظاہر کو غیرظاہر پر حمل کیا جیسے عام کی تخصیص،تو اس صورت میں حنفیہ کی رائے وہی ہے جس پر اس نے حدیث کو حمل کیاہے کیونکہ ظاہر کوبغیرکسی سبب چھوڑدینا حرام ہے لہٰذا بغیر کسی قطعی دلیل کے وہ اسے نہیں چھوڑتا۔اگر کسی نص مفسر کو چھوڑ دے(تو اس کامفہوم یہ ہوگا)کہ حدیث اس کے نزدیك منسوخ ہے اور اس کے علم میں اس کا ناسخ متعین ہے تو اس کی اتباع ضروری ہے اور اگر اس نے کسی دوسرے کی روایت کے خلاف عمل کیا۔اگر یہ خود صحابی ہیں تو اگرمعاملہ خفاء کا احتمال رکھتاہے تو اول کچھ مضرہی نہیں کہ قدح پیداکرے گا اور اگر یہ صحابی نہیں اگرچہ اکثرافراد امت ہوں،تو پھر عمل صرف حدیث پر ہوگا اھ مختصرًا۔(ت) |
اُسی میں ہے:
|
الرازی منا والبردعی والبزدوی والسرخسی |
ہم میں سے رازی،بردعی،بزدوی،سرخسی اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع