30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا فھو کالمبتدع تکرہ امامتہ بکل حال بل مشی فی شرح المنیۃ علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لما ذکرنا [1]۔ |
اس لئے کہ اس کو امامت کے لئے آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ لوگوں پرشرعًا اس کی توہین وتذلیل واجب ہے لہٰذا وہ بدعتی کی طرح ہے ہرحال میں اس کی امامت مکروہ ہے بلکہ شرح منیہ میں یہ بیان کیاگیاکہ اس کے آگے کرنے میں جو کراہت ہے وہ کراہت تحریمی ہے اس وجہ سے جوہم نے بیان کردی۔(ت) |
طاعون سے فرار کو جو احسن سمجھتاہے اگرجاہل ہے اور اسے معلوم نہیں کہ احادیث صحیحہ اس کی تحریم میں وارد ہیں اسے تفہیم کی جائے اور اگردانستہ حدیثوں کا انکار کرتاہے تو صریح گمراہ ہے۔ شرح موطاللعلامۃ الزرقانی میں زیرحدیث عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالٰی عنہ دربارہ طاعون ہے:
|
فیہ دلیل قوی علی وجوب العمل بخبر الواحد لانہ کان بمحضر جمع عظیم من الصحابۃ فلم یقولوا لعبد الرحمٰن انت واحد وانما یجب قبول خبر الکافۃ،مااضل من قال بھذا واﷲ تعالٰی یقول ان جاءکم فاسق بنبا فتبیّنوا وقرئ فتثبتوا فلوکان العدل اذاجاء بنبأ تثبت فی خبرہ ولم ینفذ لاستوی مع الفاسق وھذا خلاف القراٰن ام نجعل المتقین کالفجار قالہ ابن عبدالبر[2]۔ |
اس میں قوی دلیل ہے کہ خبرواحد پرعمل کرنا واجب ہے (کیونکہ عبدالرحمن ابن عوف کاحدیث طاعون بیان فرمانا) صحابہ کرام کی ایك عظیم جماعت کی موجودگی میں تھا،پھر کسی نے حضرت عبد الرحمن سے یہ نہیں کہا کہ تم ایك اکیلے بیان کررہے ہو(لہٰذا تمہارے اکیلے پن کے باعث تمہاری بات پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا) لہٰذا پوری جماعت کی خبرقبول کرنا واجب اور ضروری ہے،پس جس کسی نے یہ کہا وہ کس قدر بھٹك گیا، اور اﷲ تعالٰی ارشاد فرماتاہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبرلائے تو خوب تحقیق کرلیاکرو،اور یوں بھی پڑھاگیا فتثبتوا یعنی ثابت قدم اور مضبوط ہوجایاکرو(یعنی اس کی خبر میں توقف کیاکرو تاکہ پتہ چل جائے)پھر اگر کوئی عادل خبر لائے تو تو اس خبر میں ثابت قدم رہے لیکن اس کی خبر نافذ نہ ہو تو وہ فاسق(غیرمعتبر)کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع