30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وَبِئْسَ الْمَصِیۡرُ ﴿۱۶﴾"[1] |
دوزخ ہے اور کیا بری جائے بازگشت ہے۔ |
امام ابن حجر مکی زواجر عن اقتراف الکبائر میں فرماتے ہیں:
|
الکبیرۃ التاسعۃ والتسعون بعد الثلثمائۃ الفرار من الطاعون [2]۔ |
تین سوکبیرہ گناہوں کے بعد ننانوے نمبر پرطاعون سے بھاگنا کبیرہ گناہ ہے۔(ت) |
اسی میں بعد ذکرحدیث مذکور بتخریج ترمذی وابن حبان وغیرہما فرمایا:
|
القصد بھٰذا التشبیہ انما ھو زجرالفار والتغلیظ علیہ حتی ینزجرولایتم ذٰلك الا ان کان کبیرۃ کالفرار من الزحف[3]۔ |
اس تشبیہ سے مقصود طاعون سے بھاگنے والے کی سرزنش اور اس پرسختی کرناہے تاکہ وہ اس سے باز آجائے،اور یہ بات اس کے کبیرہ گناہ ہونے کے بغیرپوری نہیں ہوسکتی جیسے جنگ سے بھاگنا۔(ت) |
مولانا شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ تعالٰی شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:
|
ضابطہ در وباء ہمیں ست کہ درانجاکہ ہست نباید رفت و ازانجاکہ باشد نباید گریخت اگرچہ گریختن دربعض مواضع مثل خانہ کہ دروے زلزلہ شدہ یاآتش گرفتہ یانشستن در زیر دیوارے کم خم شدہ نزد غلبہ ظن بہلاك آمدہ است امادرباب طاعون جزصبر نیامدہ مگرگریختن تجویزنیافتہ وقیاس ایں برآں مردود وفاسد است کہ آنہا از قبیل اسباب عادیہ اند وایں از اسباب وہمی وبرہر تقدیرگریختن ازانجاجائزنیست وہیچ جا وارد نشدہ وہرکہ بگریز وعاصی ومرتکب کبیرہ ومردودست نسأل اﷲ العافیۃ[4]۔ |
وباء میں قاعدہ کلیہ یہ ہےکہ جہاں ہو(یعنی جہاں وباء پھوٹ پڑے)وہاں نہ جائے اور جس جگہ بندہ موجود ہو اور وہاں وباء کی صورت بن جائے تو وہاں سے نہ بھاگے اگرچہ بعض مقامات مثلًا وہ گھر جوزلزلے کاشکار ہورہاہو یاجس میں آگ لگ گئی ہو یاگرنے والی دیوار کے نیچے کھڑا ہو تو ان تمام مقامات سے ہلاکت کے غالب گمان وامکان کے پیش نظر بھاگ جانے کی اجازت ہے۔لیکن طاعون کے باب میں سوائے صبر کےکچھ نہیں کرناچاہئے،لہٰذا وہاں سے بھاگنے کی تجویز نہیں دی گئی۔پس اس کو اس پرقیاس کرنامردود اور فاسد ہے کہ وہ اسباب عادیہ کے قبیل سے ہے اور یہ اسباب توہم سے ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع