30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی ذٰلك لم یامر بالثبات وعدم الخروج من حیث وقع لکونہ اذ ذاك القاء بالایدی الی التھلکۃ ولم یجعل الفارمنہ کالفار من الزحف بل کان کالفار من جدار یرید ان ینقض مع ان ھذا الامر متواتر عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقد وعد علیہ الاجر العظیم فعلم ان مزعومھم ھذا باطل عندالشرع وانما نھی عن الدخول علیہ کما امر بالفرار من المجذوم لانہ عسی ان یدخل فیبتلی بالقدر فیقول اُعدیت اویقول لولاالدخول لما ابتلیت ومثل"لو"ھذہ تفتح عمل الشیطان والعیاذباﷲ تعالٰی،قال ویدل علٰی صحۃ ماذکرنا قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قد بایعناك فارجع وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل ثقۃ باﷲ ولاسبیل الی التوفیق بین ھٰذین الحدیثین الامن ھذاالوجہ،بین بالاول التوقی من اسباب التلف،وبالثانی التوکل علی اﷲ جل جلالہ |
طاعون واقع ہوجائے،وہاں لوگوں کو ٹھہرنے اور کہیں باہرنہ جانے کاحکم نہ دیتی کیونکہ پھر تو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں پڑنا ہوتا،اور طاعون سے بھاگنے والے کو جنگ سے بھاگنے والے کی طرح قرار نہ دیتی بلکہ وہ گرنے والی دیوار کے پاس سے بعجلت گزرنے کی طرح ہوتاباوجودیکہ یہ حکم آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے متواتر منقول ہے اور اس پراجرعظیم کاوعدہ فرمایاگیاہے،پس معلوم ہوا کہ شریعت میں ان کا یہ خیال باطل ہے لہٰذا جہاں طاعون پھوٹ پڑے وہاں اسی طرح جانا منع ہے جس طرح جذامی کے پاس جانا ممنوع ہے اور اس سے بھاگنے کاحکم ہے اس لئے کہ اگر وہاں جانے کی صورت میں بقضاء وقدر مبتلائے مصیبت ہوگیا تو کہنے لگے گا کہ مجھ پر تعدیہ مرض ہوگیا یایوں کہنے لگے گا کہ اگروہاں نہ جاتا تو مبتلائے مرض نہ ہوتا،اور یہ حرفِ"لو"شیطانی عمل کادروازہ کھولتاہے،اﷲ تعالٰی کی پناہ۔علامہ موصوف نے فرمایا اس کی صحت پر جو کچھ ہم نے بیان کیا حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کایہ ارشاد دلالت کرتاہے کہ لوٹ جاؤ ہم نے تمہیں (زبانی)بیعت کرلیاہے،اور آپ کایہ ارشاد"اﷲ تعالٰی پر بھروسہ کرتے ہوئے(میرے ساتھ)کھاؤ"پس ان دو حدیثوں میں موافقت کی اس طریقہ کے سوا اورکوئی صورت نہیں (اور وہ یہ ہے کہ)پہلی حدیث میں اسباب ہلاکت سے بچنے کی تلقین |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع