30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
و اقول: ثانیا بل التوفیق علی القول الاول اظھر وازھر فان منصب النبوۃ اجل من ان یبالغ فی نفی امر حق ھٰذہ المبالغۃ ولایرشد الٰی اثباتہ الابامر محتمل غیر بین وثالثا بل حق التوفیق منحصر فیما اختارہ الجمہور لانہ لیس فیہ صرف شیئ من الاحادیث عن الظاھر و ارتکاب تخصیص من دون ملجیئ ظاھر،قال ثم لان القول الاول یفضی الی تعطیل الاصول الطبیۃ ولم یرد الشرع بتعطیلھا بل ورد باثباتھا والعبرۃ بھا علی الوجہ الذی ذکرناہ [1] اقول: لانسلم ان الشرع سلم الطب بتفاصیلھا و الافاضل الثلثۃ التورپشتی والطیبی والقاری ھم الناقلون کغیرھم ان الاطباء یعتقدون الاعداء فی الطاعون والوباء فلوصدقھم الشرع |
ورنہ مخالف چیزخواہ کوئی بھی ہو اسے پھینك دیں گے،اور تمام خوبیاں خداکے لئے ہیں جو تمام جہانوں کاپروردگار ہے اقول: ثانیًا(میں دوبارہ کہتاہوں)بلکہ قول اوّل پرموافقت ومطابقت زیادہ ظاہر اور روشن ہے اس لئے کہ مقام نبوت اس سے کہیں زیادہ عظیم وجلیل ہے کہ کسی امرحق کی نفی میں وہ اس قدرمبالغہ آمیزی کرے جبکہ اس کے اثبات میں صرف ایسے امر سے راہنمائی ہوسکتی ہو جو محتمل غیرواضح ہے۔ وثالثًا (تیسری بات)بلکہ حق توفیق اس میں منحصر ہے کہ جس کو جمہور اہل علم نے اختیار فرمایا کیونکہ اس میں احادیث کو اپنے ظاہری مفہوم سے پھیرنا نہیں پڑتا اور اضطرار ظاہری کے بغیر ارتکاب تخصیص نہیں کرناپڑتا۔علامہ موصوف نے فرمایا اس لئے کہ قول اول اصول طبیہ کے معطل کردینے تك پہنچا دیتاہے حالانکہ شریعت میں ان کاتعطل وارد نہیں بلکہ ان کا اثبات وارد ہے ان کا اعتبار اس طریقے پر ہوسکتاہے جس کو ہم نے بیان کردیاہے اقول:(میں کہتاہوں)ہم یہ نہیں مانتے کہ شریعت نے علم طب کی تمام تفصیلات کوتسلیم کیاہے تین فضلاء تورپشتی طیبی اور ملاعلی قاری تو دوسروں کی طرح ناقل ہیں کہ اطباء طاعون اور وبا میں تعدیہ کااعتقاد رکھتے ہیں اگر شریعت اس بارے میں ان کی تصدیق کرتی تو پھرجہاں |
[1] مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الطب والرقی باب الفال والطیرۃ الفصل الاول مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۳۴۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع