30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
معنی قولہ علی کل تقدیر فان علی تقدیر تعمیم النفی الدلالۃ علیہ فی غایۃ الظہور فلیتأمل،قال قال الشیخ التورپشتی واری القول الثانی اولی التاویلین لمافیہ من التوفیق بین الاحادیث الواردۃ فیہ [1] اقول: اولا التوفیق حاصل علی القول الاول ایضا کما بینا ولعلہ لھذا عدل الطیبی عن ھذا التعلیل الی قولہ اری القول الثانی اولٰی لما فیہ من التوفیق بین الاحادیث و الاصول الطبیۃ التی ورد الشرع باعتبارھا علی وجہ لا یناقض اصول التوحید[2]اھ،اقول: لاحاجۃ بنا الی تطبیق الشرع باصول الطب الفلسی بل نؤمن بالشرع ونجری نصوصہ علی ظواھرھا فان وافقھا الطب وغیرہ فذاك والارمینا المخالف بالجدار کائنا ماکان والحمدﷲ رب العٰلمین |
علامہ موصوف نے فرمایا بہرتقدیر عدوٰی کے سبب ہونے کی نفی پراصلًا کوئی دلالت نہیں اور اﷲ تعالٰی بخوبی سب کچھ جانتا ہے۔"علٰی کل تقدیر"کے معنی مجھ پر ظاہر اور واضح نہیں ہوئے،کیونکہ تعمیم نفی کی تقدیر پر تو اس معنی میں بہت واضح اور جلی دلالت موجود ہے پس غورکرو،موصوف نے فرمایا شیخ تورپشتی نے کہا میں دوسرے قول کو دو تاویلوں میں سے زیادہ بہترخیال کرتاہوں کیونکہ اس کو اختیار کرنے سے احادیث واردہ فی الباب میں موافقت اور مطابقت ہوجاتی ہے اقول: اوّلًا(میں اوّلًا کہتاہوں کہ)قول اول پربھی دونوں میں موافقت موجود ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے اور شاید اسی وجہ سے علامہ طیبی نے اس تعلیل سے اس قول کی طرف عدول فرمایا کہ میں دوسرے قول کو زیادہ بہترخیال کرتاہوں کیونکہ اس میں احادیث واردہ اور قواعد طبیّہ میں موافقت اور مطابقت ہوجاتی ہے کیونکہ علم طب کے اصول وقواعد کا شریعت نے ایسی وجہ پراعتبار کیاہے کہ وہ اصول توحید کے مناقض اورخلاف نہ ہوں اھ اقول:(میں کہتاہوں)شریعت اور طب فلسفی کے اصول وقواعد میں ہمیں مطابقت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہم شریعت پرایمان رکھتے ہیں اور اس کے نصوص کوظاہر پرجاری کرتے ہیں پس اگر طب وغیرہ شرعی اصولوں کی موافقت کرے توٹھیك ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع