30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عند ارادۃ المبایعۃ [1] اقول:قدمرفیہ من الوجوہ مایکفی ویشفی ولایثبت معہا اجتنابہ صلی اﷲ تعالٰی وسلم عنہ بالمعنی الذی رقم،علی انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ربما کان یتنزل من مرتبتہ لیستن بہ، قال مع ان منصب النبوۃ بعید من ان یوردلحسم مادۃ ظن العدوٰی کلاما یکون مادۃ لظنھا ایضا،فان الامر بالتجنب اظھر فی فتح مادۃ ظن ان العدوی لھا تاثیر بالطبع[2] اقول: اولا قدقدمنا فی تقریر کلام النفاۃ السراۃ مایرشدك الی الجواب الم تر ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قد نفی العدوی جھارا واعلن بہ مرارا وقطع عرقہ بقولہ فمن اعدی الاول وقولہ فمن اجرب الاول وقولہ ذٰلکم القدر |
علیہ وآلہٖ وسلم نے اس جذامی سے ارادہ بیعت کے وقت اجتناب فرمایا اقول:(میں کہتاہوں کہ)اس میں اتنی وجوہات بیان ہوئیں کہ جوکافی وشافی ہیں لہٰذا ان کی موجودگی میں حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کا اس جذامی سے اجتناب اس معنی میں ثابت نہیں جو تحریرکیاگیا،علاوہ ازیں یہ بات ملحوظ رہے کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کبھی کبھی اپنے مقام رفیع سے تنزل فرماکر کوئی ایسا رویہ بھی اختیار فرماتے ہیں کہ اس سے آپ کی سنت قائم ہو اور اس کی اقتداء کی جائے۔علامہ موصوف نے فرمایا اس کے باوجود منصب نبوت سے بعید ہے کہ وہ ظن عدوٰی کے مادہ کوقطع کرنے کے لئے ایسا کلام فرمائیں جوخود ظن عدوٰی کے لئے مادہ بن جائے کیونکہ عدوٰی سے بچنے کاحکم دینا خود مادہ ظن کے انکشاف کوزیادہ کرتاہے کہ عدوٰی کے لئے طبعی تاثیر ہے اقول:(میں کہتاہوں)اوّلًا بیشك ہم نے نفی کرنے والے افتخار کرنے والے اکابرین کی تقریر کلام میں جو کچھ بیان کیاہے وہ تمہارے لئے جواب کی راہنمائی اور نشان دہی کرتاہے کیاتم نہیں دیکھتے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نفی عدوٰی برسر عام (کھلم کھلا)فرمائی اورمتعددبار اس کا اعلان فرمایا اور اپنے ان ارشادات سے اعدی الاول،فمن اجرب الاوّل،ذلکم القدر (یعنی پہلے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع