30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وان قلت بسبب اٰخر فعلیك بیانہ وان قلت ان الذی فعلہ فی الاول ھوالذی فعلہ فی الثانی ثبت المدعی وھو ان الذی فعل فی الجمیع ذٰلك ھواﷲ الخالق القادر علی کل شیئ وھذا جواب من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی غایۃ البلاغۃ والرشاقۃ [1] اھ اقول: کل کلامہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کذٰلك کیف وقداوتی جوامع الکلم ولاحاجۃ فی تفسیر الی ماذکرتم من الشق الثانی فانہ اذا اعترف انہ لیس بالعدوی بل بسبب اٰخر فقد انقطع لثبوت ان للمرض سببا اٰخر فلیکن الثانی ایضا بذٰلك السبب فلم تثبت العدوی لعدم الدلیل علی الدعوی و اقول: ثانیا علٰی کل فای اشارۃ فی من اعدی الاول الی اثبات العدوی عادۃ لاتاثیرا،قال وبین بقولہ فرمن المجذوم وبقولہ فرمن المجذوم وبقولہ لایوردن ذوعاھۃ علی مصح ان |
ذمّے ہے،اگر تم یہ کہو کہ جس نے پہلے کومرض لگایا اسی نے دوسرے کو بھی مرض میں مبتلا کیا،تو پھر اس صورت میں ہمارا دعوٰی ثابت ہوگا۔اور وہ یہ ہے کہ جو سب میں یہ کچھ کرتا ہے وہی اﷲ تعالٰی ہے جوخالق ہے ہر چیز پر قادر ہے۔ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے یہ جواب انتہائی درجہ بلیغ اور خوب صورت انداز میں سناگیااھ۔اقول:(میں کہتاہوں) حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کاہرکلام اسی طرح فصیح و بلیغ اور جامع ہے،اور یہ کیونکر نہ ہو جبکہ آپ کو جوامع الکلم یعنی جامع کلمات سے نوازاگیا۔اور تفسیر میں تمہاری بیان کردہ دوسری شق کی کوئی ضرورت اور حاجت نہیں کیونکہ جب اعتراف ہوگیا کہ یہ اثر عدوٰی سے نہیں بلکہ کسی دوسرے سبب سے ہے توپھربات ہی ختم ہوگئی اس ثبوت کی وجہ سے کہ مرض کاکوئی دوسراسبب ہے تو پھرہوسکتاہے کہ دوسرے مریض کو بھی اسی سبب سے مرض لاحق ہوگیاہو،نتیجہ یہ کہ اس صورت میں تعدیہ مرض(مجذومی)ثابت نہ ہوا کیونکہ اس دعوٰی پرکوئی دلیل موجود نہیں۔و اقول: ثانیًا(اور میں ثانیًا کہتاہوں کہ)ہرتقدیر پرمتن اعدی الاول میں کونسااشارہ ہے کہ تعدیہ بطورتاثیر توثابت نہیں ہاں البتہ بطور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع