30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ای ان کنتم ترون ان السبب فی ذٰلك العدوی لا غیرفمن اعدی الاول، اقول: اوّلًا بون بیّن بین ان یعتقدوا العلل موثرۃ فی العدوی وان یعتقدوا العدوی ھی الموثرۃ وحدھا والثابت عنھم ذٰلك لاھذا وقد وقع مثل ھذا للمناوی فی التیسیر فقال ھو من الاجوبۃ المسکتۃ اذ لو جلبت الادواء بعضھا بعضا لزم فقد الدواء الاول لفقد الجالب[1] اھ وانت تعلم انہ غیر لازم اصلا مالم یقولوا بالسبب عند سلب الجلب ولیس ھذا زعمھم ولالازم زعمھم و الرجیح الفصیح فی تفسیر الحدیث ماقدمت والیہ جنح الامام الطحاوی کما علمت ذکرہ بلسان المتکلم الامام العینی فی شرح البخاری[2] فقال ای من اجرب البعیر الاول یعنی ممن سری الیہ الجرب فان قلت من بعیر اٰخر یلزم التسلسل |
یعنی پہلے آدمی تك کس سے مرض پہنچا یعنی اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اس میں سبب مرض تعدیہ ہے تو پہلے مریض تك کیسے تعدیہ ہوا، اقول: اولًا(میں اولًا کہتاہوں)دونوں میں فرق ظاہر اور واضح ہے وہ یہ کہ تعدیہ میں علل کے مؤثر ہونے کا اعتقاد رکھیں اور صرف تعدیہ ہی کو مؤثر سمجھیں،پس ان سے پہلی شق ثابت ہے نہ کہ دوسری۔اسی کی مثل علامہ مناوی سے تیسیر میں مذکورہوا ہے،چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ یہ مسکت جوابات میں سے ہے اس لئے کہ اگر امراض میں ایك دوسرے سے کشید ہو توپھر پہلے مریض کا مرض مفقود ہو جانا چاہئے اس لئے کہ اس کے لئے کوئی جالب نہیں اھ تم جانتے ہو کہ یہ قطعًا لازم نہیں آتا جب تك وہ سلب جلب کے علاوہ کسی سبب کا قول نہ کریں حالانکہ ان کا یہ خیال (زعم) نہیں اور نہ ان کے زعم سے یہ لازم آتا ہے لہٰذاصحیح،راجح قول وہی ہے جو میں نے پہلے بیان کردیاہے اور امام طحاوی اسی طرف مائل ہیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں،امام عینی نے شرح بخاری میں متکلم کی زبان میں ذکر کیا ہے،چنانچہ فرمایا یعنی پہلے اونٹ کو کس طرح خارش ہوئی،اگر تم کہو کہ دوسرے اونٹ سے،تو تسلسل لازم آئے گا،اگرتم کہو کہ کسی دوسرے سبب سے مرض منتقل ہوا تو اس کابیان تمہارے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع