30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ وسلم لایوردن ذوعاھۃ علی مصح[1] اقول: ھذا اضعف وابعد بعد ماروینا عن المؤطا انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لما نفی العدوی ونھی عن ایراد الممرض قالوا وماذاك قال وانما اراد بذٰلك نفی ماکان یعتقدہ اصحاب الطبعیۃ فانھم کانوا یرون العلل المعدیۃ موثرۃ لامحالۃ،فاعلمھم ان لیس الامر علی مایتوھمون بل ھو معلق بالمشیۃ ان شاء کان وان لم یشاء لم یکن[2]۔ اقول: کل شیئ کذٰلك و جمیع الاسباب متساویۃ الاقدام فی ذٰلك ولم یات الشرع بنفی الاسباب بل اثبتھا وارشد الی نفی تاثیرھا واعتقاد اصحاب الطبعیۃ فی العین لیس بادون من اعتقادھم فی العدوی ثمّ لم یات الشرع بنفیھا بل قال العین حق،قال ویشیر الی ھذا المعنی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم"فمن اعدی الاول"
|
نے فرمایا حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آفت ومصیبت والے کسی تندرست کے پاس نہ جائیں۔ اقول:(میں کہتاہوں)یہ زیادہ ضعف او ر زیادہ بعید ہے بعد اس کے کہ ہم نے مؤطا کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جب تعدیہ مرض کی نفی فرمائی اور لوگوں کو مریض کے پاس جانے سے منع فرمایا تو لوگوں نے استفسار کیاکہ یہ کیوں۔۔۔۔۔۔۔موصوف نے فرمایا کہ اس سے آپ کاارادہ نفی کرنے کاتھا جس کا ارباب طبعیت اعتقاد رکھتے ہیں کیونکہ وہ بلاشبہہ علل متعدیہ کومؤثر سمجھتے تھے اس لئے آپ نے ان لوگوں کو اس بات پرآگاہ فرمایا کہ وہ معاملہ جس کا انہیں وہم ہے وہ اﷲ تعالٰی کی مشیت سے معلق ہے اگروہ چاہے تو مرض لاحق ہوگا نہ چاہے تو نہیں ہوگا اقول:(میں کہتاہوں)ہرشے اسی طرح ہے او ر تمام اسباب اس میں متساوی اقدام ہیں اور شریعت نے اسباب کی نفی نہیں کی بلکہ انہیں ثابت کیاہے اور ان کی نفی تاثیر کی راہنمائی فرمائی ہے اور نظربد میں اصحاب طبعیت کااعتقاد اس سے کم نہیں جتنا تعدیہ مرض میں ہے۔اور شریعت نے اس کی نفی بھی نہیں فرمائی بلکہ فرمایا:نظرحق ہے۔علامہ موصوف نے فرمایا اور اسی معنی کی طرف حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد فمن اعدی الاوّل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع