30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کلام العلامۃ علی القاری علیہ رحمۃ الباری فانہ جمع مااتی بہ المثبتون وزاد ونذکر فی خلالہ مافتح اﷲ تعالٰی علینا من وجوہ اختلالہ قال رحمہ اﷲ تعالٰی قد عــــــہ اختلف العلماء فی التاویل فمنھم من یقول المراد منہ نفی ذٰلك وابطالہ علی مایدل علیہ ظاھرالحدیث وھم الاکثرون ومنھم من یری انہ لم یرد ابطالھا فقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمن المجذوم فرارك من الاسد[1] اقول: ارادۃ الابطال ھو الظاھر کما اقربہ وماذکر لایصلح صارفا لہ لما علمت من وجوہ التاویل،قال وقال صلی اﷲ تعالٰی |
جو ان لوگوں کے مذہب کے رَد کرنے کے لئے(واضح)نص ہے۔ہمیں یہاں ملاعلی قاری رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کا کلام ذکرکرنا چاہئے کیونکہ اہل اثبات جوکچھ لائے ہیں اس سب کو بمع اضافہ انہوں نے یکجاکیاہے اور ان کی خلل پذیروجوہات کے بارے میں جو اﷲ تعالٰی نے ہم پرمنکشف فرمائیں اس دوران ہم ان کابھی ذکرکریں گے۔چنانچہ ملاعلی قاری رحمۃ اﷲ علیہ نے ارشاد فرمایا اہل علم کا اس مسئلہ کی تاویل میں اختلاف ہے ان میں بعض وہ ہیں جو فرماتے ہیں اس سے نفی اور اس کا ابطال مرادہے اس بناپرکہ ظاہرحدیث اس پردلالت کرتی ہے،اور وہ اہل علم اکثریعنی(کثیرتعداد میں ہیں اور کچھ دوسرے وہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ بطلان(تعدیہ)مراد نہیں کیونکہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا"جذامی سے ایسے بھاگوجیسے شیرسے بھاگتے ہو"۔ اقول:(میں کہتاہوں)ارادہ ا بطال ہی ظاہر ہے جیسا کہ خود موصوف نے اس کا اقرار کیا اور جوکچھ(اس کے خلاف)ذکرکیاگیا وہ اس کے لئے دافع نہیں جیسا کہ وجوہ تاویل سے تمہیں معلوم ہوگیا، علامہ موصوف |
|
عــــــہ:ھذا کلہ کلام التورپشتی سوی مازاد من شرح المنحۃ ۱۲منہ |
یہ سب تورپشتی کاکلام ہے ماسوائے اس چیز کے جو شرح المنحہ سے زائد کیاہے ۱۲منہ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع