30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والسفینۃ المکسورۃ وقداعترف بہ ھٰؤلاء المثبتون للعدوی کما ستقف،اقول: ولیس من التوکل، المعارضۃ مع الاسباب والہجوم علی ماجرت العادۃ بافضائہ الی التباب ولایحل لاحد ان یلقی نفسہ من فوق جبل توکلا علی ربہ عزوجل وایقانا بانہ لایضرہ ان لم یشاء وقد حکی ان الشیطان سال ذٰلك سیدنا عیسٰی کلمۃ اﷲ علی نبینا الکریم وعلیہ الصلٰوۃ والتسلیم فقال لااختبر ربی ونصوا بمما نعۃ رکوب البحر عندھیجانہ وبہ ظھر الجواب عن حمل مثبتی العدوی حدیث کل ثقۃ باﷲ وامثالہ علی التوکل ومتارکۃ الاسباب وقد ذکرمن فعل الصدیق الاکبر والفاروق الاعظم ومبالغتھما فی ذٰلك مایرشدك انہ نص فی ردما ذھبوا الیہ،ولنذکر ھٰھنا |
مت قتل کرو"او ریہ گرنے والی دیوار اور ٹوٹی ہوئی کشتی کی طرح ہوگا،اور اثبات تعدیہ کرنے والے حضرات بھی اس کے قائل اور معترف ہیں جیسا کہ عنقریب آپ آگاہ اور واقف ہو جائیں گے،اقول:(میں کہتاہوں)یہ توکّل نہیں کہ اسباب کے ساتھ معارضہ(مقابلہ)کیاجائے۔اور جو چیز تباہی وہلاکت تك لے جائے بے سوچے اس میں پڑجانا ہرگز جائزنہیں، نیزکسی کے لئے یہ جائزنہیں کہ اپنے آپ کو پہاڑ کے اُوپر سے گرائے،اﷲ تعالٰی پرتوکل کانام لیتے ہوئے اور اس یقین و بھروسے کے ساتھ کہ اگر اﷲ تعالٰی نہ چاہے تو کوئی چیز نقصان نہیں دے سکتی ایساکرناجائزنہیں۔چنانچہ حکایت بیان کی گئی ہے کہ سیدنا حضرت عیسٰی کلمۃ اﷲ علیہ وعلٰی نبینا الصلوٰۃ والسلام سے یہی سوال شیطان نے کیاتھا تو آپ نے جواب میں فرمایاکہ میں اپنے پروردگار کاامتحان نہیں کرتا اور اسے نہیں آزماتا۔اہل علم نے صراحت فرمائی کہ سمندرمیں جوش اورطوفان آنے کے وقت بحری سفرنہ کیاجائے،اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ قائلین بالتعدیہ حدیث کل ثقۃً باﷲ اور اس جیسی دوسری حدیثوں کوعمل توکل اور ترك اسباب پر محمول کرتے ہیں۔حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے فعل سے یہ بیان کیا گیا اور اس باب میں ان دونوں کے مبالغہ کرنے میں تمہارے لئے ایسی راہنمائی ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع