30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
معہ ففعلہ لبیان الجواز[1]اھ،واذن یکون قولہ قالوا وطریق الجمع الخ علی ماھو المتعارف بین العلماء من نقل اقوال جمع،بلفظۃ قالوا الا ان مرجعہ جمہور العلماء کیلا یخالف نقل الاکثرین عن الاکثرین منھم التورپشتی والقاری انفسھما واﷲ تعالٰی اعلم،ثم من الحجۃ لنا علیھم،اوّلًا ظاھرا لاحادیث المتواترۃ کما اعترفوا بہ ولامعدل عن ظاھر الابدلیل واین الدلیل وثانیًا ماقدمنا عن الامام الطحاوی ان لوکان ذٰلك من اسباب الہلاك العادیۃ لم یفعلہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولاالخلفاء الراشدون ولاامر بالاکل معھم تواضعاوایمانا فان مجانبتہ حینئذ ماموربہ شرعا لقولہ تعالٰی " وَلَا تَقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ ؕ"[2] وقولہ تعالٰی " وَلَا تُلْقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمْ اِلَی التَّہۡلُکَۃِۚۖۛ "[3] وکان کالجدار المائل |
وجوبی نہیں۔رہایہ کہ ان کے ساتھ کھاناپینا،تو ایساکرنا بیان جواز کے لئے ہےاھ پھر تو موصوف کاقول قالوا وطریق الجمع الخ اس پرمبنی ہے کہ جو علماء کے درمیان متعارف ہے کہ وہ ایك جماعت کے اقوال کو لفظ قالوا سے نقل کرتے ہیں ہاں مگر اس کا مرجع جمہورعلماء ہیں تاکہ اکثر کی نقل اکثر کے مخالف نہ ہو، ان میں خود تورپشتی اور ملاعلی قاری شامل ہیں اور اﷲ تعالٰی ظاہروباطن کو خوب جانتاہے۔پھر ہماری دلیل ان کے خلاف متعدد وجوہ سے ہے اوّل متواتر حدیثوں کے ظاہر کی دلالت، جیسا کہ خود مخالفین کو اس بات کا اعتراف ہے،اور ظاہر ہے بغیر دلیل عدول نہیں ہوسکتا اور یہاں دلیل کہاں،دوم ہم امام طحاوی کے حوالہ سے پہلے نقل کرچکے ہیں اگر وہ"اختلاط مرض"ہلاکت عادیہ کے اسباب میں سے ہوتا تو حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور خلفاء راشدین ہرگزایسانہ کرتے (اقدام اختلاط)اور نہ ان کے ساتھ(یعنی مریضوں کے ساتھ) بر بنائے تواضع اورایمان کھانے پینے کاحکم فرماتے کیونکہ پھرتو ان سے علیحدگی اور کنارہ کشی شرعًا ماموربہ ہے اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے"اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو"یا" اپنے آپ کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع