30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ثم نقل عن یحٰیی بن یحٰیی ماقدمناہ وقد اٰذناك ان المائلین الی ھذا القول کالتور پشتی والطیبی والقاری قداعترفوا جمیعا کنص الشیخ المحقق و الزرقانی ان ابطال العدوٰی راسا ھوالذی علیہ الاکثرون،اقول: وارجوان لاینکر علیہ بما قال الامام النووی فی شرح مسلم قال جمہورالعلماء یجب الجمع بین ھٰذین الحدیثین وھما صحیحان قالوا وطریق الجمع ان حدیث لاعدوٰی المراد بہ نفی ماکانت علیہ الجاھلیۃ تزعمہ وتعتقدہ ان المرض و العاھۃ تعدی بطبعھا لایفعل اﷲ تعالٰی واما حدیث لا یورد ممرض علی مصح،فارشد فیہ الی مجانبۃ ما یحصل الضرر عندہ فی العادۃ بفعل اﷲ تعالٰی وقدرہ قال فھذا الذی ذکرناہ من تصحیح الحدیثین والجمع بینھما ھو الصواب الذی علیہ جمہور العلماء ویتعین المصیر الیہ[1] اھ فقد یکون المعزوالی جمہور |
نہ کہ مرض میں تجاوز ہے۔پھرانہوں نے یحیٰی بن یحیٰی سے وہی نقل کیاجو ہم پہلے بیان کرآئے ہیں اور بلاشبہہ ہم نے تمہیں آگاہ کردیا ہے کہ جولوگ اس قول کی طرف مائل ہیں جیسے تورپشتی،طیبی اور ملاعلی قاری شیخ محقق اور زرقانی کی تصریح کی طرح وہ سب اس بات کے معترف ہیں کہ بالکلیہ تعدیہ مرض کے ابطال کا موقف زیادہ تر اہل علم رکھتے ہیں۔ اقول:(میں کہتاہوں)میں اُمیدرکھتاہوں کہ جو کچھ امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا اس کا انکار نہیں کیاجائے گا (اور وہ یہ ہے)جمہورعلماء نے فرمایا ان دوحدیثوں کو جمع کرنا ضروری ہے اور وہ دونوں صحیح ہیں،جمہور فرماتے ہیں دونوں کو جمع کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ حدیث"لاعدوٰی"سے اس چیز کی نفی مراد ہے کہ جس پر اہل جاہلیت قائم تھے چنانچہ وہ گمان اور اعتقاد رکھتے تھے کہ مرض اور آفت اپنی طبعی حالت سے تجاوز کرتے ہیں نہ کہ اﷲتعالٰی کی کارکردگی سے۔(رہی حدیث کہ)"مریض تندرست کے پاس نہ جائے"اس میں اس چیز سے بچنے کی راہنمائی فرمائی ہے کہ جس سے بطور عادت اﷲ تعالٰی کے فضل اور قضاء وقدر سے ضرر حاصل ہوتا ہے۔امام نووی نے فرمایا یہ وہی ہے جس کو ہم نے بیان کیا ہے(یعنی)دوحدیثوں کی تصحیح اور ان دونوں کو جمع کرنا یہی وہ راہ صواب ہے کہ جس پر جمہور علماء قائم ہیں اور اس کی طرف رجوع کرنامتعین ہے اھ لہٰذا جمہور علماء کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع