30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاسد،وان کنا نعتقد وان الجذام لایعدی لکنا نجد فی انفسنا نفرۃ وکراھیۃ لمخالطتہ[1] اھ فھٰذا صریح فی وفاق الجمہور،ثم قال اما النھی عن ایراد الممرض فی باب اجتناب الاسباب التی خلقھا اﷲ وجعلھا اسبابا للھلاك اوالاذی والعبد مامور اتقاء اسباب البلاء اذا کان فی عافیۃ منھا وفی حدیث مرسل عند ابی داؤد انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مر بحائط مائل فقال اخاف موت الفوات [2] اھ ففیہ میل ما الی القول الاٰخر بل کان جزما بہ لولا قولہ"او الاذی"ثم عاد فقال تحت قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ اذی ای یتاذی بہ لاانہ یعدی [3] |
ہوسکتی۔او رحضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے ارشاد" جذامی سے تم اس طرح بھاگو جیسے بوقت خوف شیر سے بھاگتے ہو"کایہی مفہوم ہے،اگرچہ ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ مرض جذام متعدی نہیں ہوتا لیکن اپنے دلوں میں جذامی سے میل جول رکھنے سے نفرت اور کراہت پاتے ہیں اھ،اور یہ صراحۃً مذہب جمہور سے اتفاق ہے۔پھرفرمایا لیکن مریض کے پاس جانے سے ممانعت کرنا ان اسباب سے بچنے کے باب سے ہے جنہیں اﷲ تعالٰی نے پیدافرمایا اورانہیں ہلاکت اور تباہی کے اسباب بنایا یاممانعت ایذارسانی کے باعث ہے اور بندہ کواسباب بلا سے بچنے کاحکم دیاگیاہے جبکہ وہ ان سے بچ سکے، چنانچہ ابوداؤد کی ایك مرسل(بلاسند)روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایك مائل بانہدام(جھکی ہوئی)دیوار کے قریب سے گزرے تو ارشاد فرمایا میں موت فوات سے ڈرتاہوں اھ پس اس میں دوسرے قول کی طرف تھوڑا سامیلان ہے بلکہ اس پراظہاریقین ہے بشرطیکہ اوالاذٰی کا قول متصل نہ ہوتا،پھر سابق کلام کی طرف رجوع کرتے ہوئے حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد انہ اذی(وہ ایذاہے)کےـ ذیل میں فرمایا یعنی اذیت ہوگی(مریض اور تندرست کے لئے) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع