30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماقال قال ولایناقضہ خبر لاعدوی لانہ نفی لاعتقاد الجاھلیۃ نسبۃ الفعل لغیراﷲ تعالٰی[1] الخ وقال تحت حدیث کلم المجذوم،لئلا یعرض لك جذام فتظن انہ اعداك مع ان ذٰلك لایکون الا بتقدیراﷲ تعالٰی وھذا خطاب لمن ضعف یقینہ ووقف نظرہ عند الاسباب[2] اھ ففی ھٰذا نوع میل الی ماعلیہ الجمہور ووقع نحوہ لعلامۃ الزرقانی فی شرح المؤطا فی موضع واحد فقال تحت قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایحل الممرض علی المصح،فربما یصاب بذٰلك فیقول لوانی مااحللتہ لم یصبہ والواقع انہ لو لم یحلہ لاصابہ لان اﷲ تعالٰی قدرہ فنھی عنہ لھذہ العلۃ التی لایؤمن غالبا من وقوعھا فی طبع الانسان وھو قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمن المجذوم فرارك من |
جوکچھ کہا،پھرفرمایا کہ یہ حدیث لاعدوٰی کے مناقض نہیں اس لئے کہ اس میں اعتقاد جاہلیت کی نفی ہے کیونکہ اس میں غیراﷲ کی طرف فعل کی نسبت ہے الخ اور حدیث"کلّم المجذوم یعنی مجذوم کے ساتھ دورسے کلام کرو"کے ذیل میں فرمایا ایسا نہ ہو کہ کہیں تجھے مرض جذام لگ جائے اور تو یہ سمجھنے لگے کہ مریض کی بیماری اُڑ کر تمہیں لگ گئی حالانکہ تقدیرالٰہی کے بغیر اس طرح نہیں ہوسکتا۔اور یہ اس کو خطاب ہے جو یقین میں کمزورہو،اور اس کی نظرصرف ظاہری اسباب پر ہی ٹھہرتی ہو اھ،اس میں جمہور کے مذہب کی طرف ایك طرح میلان پایاجاتا ہے،اور اسی نوع کاوقوع علامہ زرقانی سے شرح مؤطا میں ایك جگہ ہواہے چنانچہ علامہ موصوف نے حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کے اس ارشاد"کوئی مریض کسی تندرست آدمی کے پاس نہ جائے"اس لئے کہ اگر اسے مرض لگ جاتاہے توپھر وہ مریض یوں کہنے لگتاہے کہ کاش میں اس کے ہاں نہ جاتا یا اس سے نہ ملتا تو مجھے یہ مرض نہ لگتا،حالانکہ فی الواقع اگر یہ مریض کے پاس نہ جاتا تب بھی اس کو یہ مرض لگ جاتا کیونکہ اﷲ تعالٰی نے اس کے مقدر میں ایسالکھ دیاتھا پس اس علت کی وجہ سے اسے روك دیاگیا کیونکہ طبیعت انسانی غالبًا اس کے وقوع سے لاپروا اور بے فکر نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع