30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والمجربین فی اخرونقلہ غیرہ من افاضل الاطباء [1] اھ،اقول: وطریقتہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی امثال المقام معروفۃ من الاعتماد علی التجارب حتی قال بالقیافۃ وجعلھا حجۃ فی الاحکام الشرعیۃ و حکایاتہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فیھا مشھورۃ فی مقاصد السخاوی وغیرھا ماثورۃ وتبعہ علیہ احد شیخی مذھبہ الامام ابوزکریا النووی ومن قبلہ الامام ابو عمرو بن الصلاح ومن بعدھما الکرمانی والطیبی و کذا ابن الاثیر فیما ذکر القاری وکذا السخاوی علی شبھتہ فی عبارۃ الموجودۃ فی نسختی المقاصد و وافقھم من علمائنا التورپشتی والقاری کما وافقنا من ائمتھم العسقلانی،واضطرب ظاھرا کلام المناوی فقال تحت حدیث اتقوا المجذوم |
اور ایك دوسری جگہ اطباء اور تجربہ کارلوگوں سے اس کی حکایت بیان فرمائی،اور دیگر اہل علم نے طب کے فاضلوں سے اسے نقل کیاہے اھ۔اقول:(میں کہتاہوں)امام شافعی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کاطریقہ کار اور دستور اس نوع کے مقامات میں مشہور ومعروف ہے کہ مختلف تجربوں پراعتماد ہے یہاں تك کہ موصوف نے قیافہ شناسی اور اسے احکام شریعت میں حجت قراردینے کاقول پیش کیا ہے اور اس سلسلے میں موصوف رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے واقعات وحکایات مشہورہیں چنانچہ مقاصد حسنہ میں امام سخاوی اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کی کتابوں میں منقول ہیں ان کے مذہب والوں میں سے ایك شیخ ابوزکریا نووی نے اس سلسلے میں ان کا اتباع کیاہے اور ان سے پہلے امام ابوعمروبن صلاح اور ان دونوں کے بعد کرمانی، طیبی اور اسی طرح ابن اثیر جیسا کہ ملاعلی قاری نے ذکر فرمایاہے اور اسی طرح امام سخاوی نے ذکرکیامگر میرے پاس مقاصد حسنہ کاجو نسخہ ہے اس کی موجودہ عبارت میں کچھ اشتباہ پایاجاتاہے اور ہمارے علماء میں سے ان کی موافقت تورپشتی اور ملاعلی قاری نے کی جیسا کہ ان کے ائمہ میں سے ہماری موافقت علامہ ابن حجرعسقلانی نے فرمائی،بظاہر علامہ مناوی کاکلام مضطرب(ناقابل اعتماد)ہے چنانچہ اس حدیث "جذامی سے بچو"کے ذیل میں کہا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع