30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نقل التورپشتی والطیبی والقاری والزرقانی والشیخ المحقق وغیرھم ان العدوی بزعم الطب فی سبع کما تقدم عن الشیخ ویستوی فی ذٰلك کونہا الکیفیۃ فیہ اوالخاصیۃ فان کلا الفصلین من مسائل الطب ولیس بھا انما یعتقدون ان العدوی انما تکون اذا کانت لابسبب یعقل والقائلون الاعداء ولانظرلھم الی انہ بالکیفیۃ اوبالخاصیۃ فمن قال بالاعداء ولولرائحۃ فقد قال بالعدوی۔والثامن ان النفی اعداء المرض من دون اذن اﷲ تعالٰی کمازعمہ اھل الجاھلیۃ اما الاعداء عادۃ باذن اﷲ تعالٰی فثابت ولذا امر بالفرار ونھی عن ایراد الممرض ولااعلمہ اعنی اثبات العدوی العادیۃ ثابتا عن الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھم الامایفیدہ کلام الامام الطحاوی رحمہ اﷲ تعالٰی فیما تقدم من انکار ابی ھریرۃ |
باب میں کیامنافات اور تضاد ہے کیونکہ طب اس مرض میں تعدیہ کی قائل ہے جیسا کہ تورپشتی،طیبی،ملاعلی قاری،زرقانی اور شیخ محقق اور ان کے علاوہ دوسروں نے کہاہے کہ اطبا کے خیال میں تعدیہ مرض سات قسم کی امراض میں ہوتاہے جیسا کہ شیخ کے حوالہ سے پہلے مذکورہوا۔تعدیہ مرض خواہ کسی کیفیت سے ہو یاکسی خاصیت سے،اس میں دونوں برابر اور مساوی ہیں کیونکہ دونوں فصلیں طب کے مسائل میں سے ہیں،اور یوں نہیں کہ عدوٰی بغیر کسی معقول سبب کے ہوجائے اس لئے کہ جولوگ تعدیہ امراض کے قائل ہیں وہ تعدیہ پراعتقاد رکھتے ہیں باوجودیکہ وہ اس پرنگاہ نہیں رکھتے کہ وہ کس کیفیت سے ہوا ہے یاکس خاصیت سے،لہٰذا جو شخص تجاوزمرض کاقائل ہو خواہ بدبوہی کے سبب سے کیوں نہ ہو وہ درحقیقت تعدیہ مرض کا قائل ہے۔ آٹھویں وجہ تعدیہ مرض کی نفی اس صورت میں ہے کہ اسے اﷲ تعالٰی کے اذن اور ارادہ کے بغیرتسلیم کیاجائے جیسا کہ دورجاہلیت والوں کاخیال اور زعم تھا،لیکن اگر اﷲ تعالٰی کے اذن اور ارادہ سے عادتًا ماناجائے(توپھر خلاف شریعت نہ ہونے کی وجہ سے)ثابت ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سے بھاگنے کاحکم دیاگیا اور اس مرض کے مریض کو تندرست آدمی کے پاس جانے سے منع کیاگیاہے۔اور میں نہیں جانتا کہ عدوٰی عادیہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ثابت ہے۔ہاں مگر امام طحاوی رحمۃ اﷲ علیہ کا گزشتہ کلام اس بات کو تقویت پہنچاتاہے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع